کلمۃ الفصل — Page 37
كلام يفصل جل مشابہ نہیں جو حضرت مسیح موعود کی طرف یہ عقیدہ منسوب گرتا ہے کہ سیح ناصری مع جسم عنصری آسمان پر بیٹھا ہے اور اس کے ثبوت میں براہین کی عبارت کو پیش کرتا ہے ؟ خود با صد من یکتا اس جگہ ایک اور مشبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود اپنے مسکروں کو حسب حکم الہی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے اُنکے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں بھی مسلمان کا لفظ کیوں استعمال فرمایا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت صاحب انہیں مسلمان نہ لکھتے تو اور لکھتے ؟ کیا وہ یہودی ہیں کہ انہیں یہودی لکھا جاتا ؟ کیا وہ عیسائی ہیں کہ انکو اس نام سے پکارا جاتا ؟ کیا وہ ہندو ہیں کہ انکے متعلق ہندو کا لفظ استعمال کیا جاتا ؟ کیا وہ بدھ مذہب میں داخل ہیں کہ انکو بدھ کے متبعین کے طور پر پیش کیا جاتا ؟ اب جبکہ وہ ان مذاہب میں سے کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں رکھتے تو انکو ان ناموں میں سے کوئی نام کس طرح دیا جا سکتا ہے۔کیا قرآن شریف میں عیسی کی طرف منسوب ہو نیوالی قوم کو نصاری کے نام سے یاد نہیں کیا گیا ؟ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیا گیا۔مگر وہاں معترض نے اعتراض کیا۔کہ جب وہ عینی کی تعلیم سے دُور جاپڑے ہیں تو انکو نصاری کیوں کہا جاتا ہے۔پھر اب بہار، اعتراض کیا ؟ افس میں بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کو اختیار کرتا پڑتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز اسم بامسمٹی ہوگئی ہے مثلا دیکھو اگر یک شخص سراج دین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جاوے تو اسے پھر بھی سراج دین ہی کہیں گے حالانکہ عیسائی ہو جانیکی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا بلکہ کچھ اور بن گیا ہے لیکن عرف عام کی وجہ سے اس نام سے پکارا جا دیگا۔معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کہ لوگ دھوکا نہ کھائیں، اسلیئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں ، تا جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جا دے نہ کہ حقیقی مسلمان۔چنانچہ حضرت صاحب تحفہ گولڑویہ صفحو ۱۸ پر تحریر فرماتے ہیں :۔ماسی کی طرف حدیث بخاری کے پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی سب سے نازل ہو گا تو تمھیں دوسرے