کلمۃ الفصل — Page 32
ریویو آفت هیجز ۱۲۱ والی آیت کو غیر احمدیوں پر چسپاں کرتے ہوئے اور رسل کے لفظ میں حضرت مسیح موعود کو شامل کرتے ہوئے سُنا ہے۔مجھے ایک عرصہ گزر جانے کی وجہ سے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے الفاظ یاد نہیں ہیں گر مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے کہ آپنے مذکورہ بالا آیت کو خیر احمدیوں پر چسپاں کیا بلکہ سننے والوں نے اس دن تعجب بھی کیا تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے خلاف عادت صریح الفاظ میں مسئلہ کفر کی تصدیق فرمائی ورنہ عام طور پر مولوی صاحب کی عادت تھی کہ اگر کوئی آپ سے اس مسئلہ کے متعلق سوال کرتا تو آپ یہ کھڑ ٹال دیا کرتے تھے کہ تمھیں دوسرے کے کفرد اسلام سے کیا تم اپنی فکر کہ وہ سی طرح مولوی صاحب کی ایک تحریری شہادت بھی ایمان بالرسل کے متعلق موجود ہے اور آج سے چار سال پہلے چھپ چکی ہے آپنے فرمایا اور ایمان کے یے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی پر ایمان ہو اسکے ملائکہ پر کتب سماویہ پر اور رسل پر اور خیر وشر کے اندازہ پر اور بحث بعد الموت پر۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے مخالف بھی یہی مانتے ہیں اور اس کا دعوی کرتے ہیں لیکن یہاں سے ہی ہمارا اور انکا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہو سکتا۔اور ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں عام ہے خواہ وہ نہی پہلے آئے یا بد دیں یا بندی اور ہندوستان میں ہوا کہ میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے ملک میں اب بتاؤ کہ یہ اختلاف فروٹی کیونکہ ہوا۔قرآن مجید میں تو لکھا ہے لا نفرق بین احد من رسله - لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔رہی یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں خاتم النبین فرمایا۔ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین یقین نہ کرے تو وہ بالاتفاق کا ذ ہے۔یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں۔اور ہمارے مخالف کیا۔اس خاتم النبین کی بحث کو لا نفرق بين احد من رسله سے تعلق نہیں وہ ایک الگ بھر ہے اس لیے میں تو اپنے اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں ؟