کلمۃ الفصل — Page 3
۹۲ جلد اس رسول کی جماعت میں داخل ہو جاتے ہیں اور ان نعمتوں کے وارث بنتے ہیں جن کا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے۔مگر اس کے مقابل ایک دوسر اگر وہ ہوتا ہے جو پکار نیوالے کی پکار کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا اور خدا کے قائم کردہ سلسلہ کی تباہی کے در پے ہوتا ہے اسکی قیمتی اس سو انکار ہیں اشکار کی داتی ہے اور اسکے عمل کا پردہ اسکی آنکھوں کو آئی تو سے نہ یضیاب ہونے نہیں دیتا اس کی شقاوت اس کے قدموں کو اللہ تعالیٰ اور اسکے نبی کی طرف اٹھنے سے روکتی ہے اور اس کی بد اعمالیاں اسے آخر کار جہنم کے دروازہ تک پہنچا کہ چھوڑتی ہیں غرض یہ رو گردہ ہوتے ہیں ھذا عذب فرات و هذا صلح اجاج جو ہر نامور کی بعثت کے وقت لاہری طور پر پیدا ہو جاتے ہیں یہ غیر ممکن ہے کہ اس استان کی طرف سے کوئی بادی دنیا میں آدے اور پھر تمام کے تمام لوگ پر ایمان لے آویں جیسا کہ بھی غیر ممکن ہے کہ ایک نبی کے پیدا ہونے پر کوئی بھی سعید روح ایسی نہ نکلے جو من انصاری الی الله کی آواز پر نحن انصار اللہ کا نعرہ بلند کر سکے کیونکہ رسولوں کا آنا ایک باریش کے رنگ پر ہے جسکی وجہ سے سطور زمین پر ہر ایک قسم کی روئیدگی ظاہر ہوتی ہے۔وہ زمین جواپنے اندرایک گند و یک لیے ہوئے ہے ایک بد بو دار در نست نکالے گی اور دہ زمین جسکے نیچے کسی خوشبودار پھول کا بیج ہے ضرور ہے کہ بارش کے بعد پھٹ کر دنیا کو اپنے منفی خزانہ سے مالا مال کرے ہی اللہ تعالی کی سنت ہے ولن تجد لسنت الله تبدیلا۔مثال کے طور پر دیکھ تو نبی کریم مسلم نے یکے مشرکوں کو دل کا ر کرنے مشریکی توجیہ کے جھنڈے کے نیچے چلے آؤ اور اس خدا کی پرستش میں لگ جاؤ جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور تمھاری آسائیش کے سامان دنیا میں جیتا کیئے تا خدا کے دفتر میں تمھارا نام کا میاب گردہ میں لکھا جاوے تو اس آواز پر ایک ابو جہل بھی تھا جو اٹھا اور جس نے اس پاک وجود کو اذیت پہنچانی شروع کر دی جسکے اندر الکسی جمال اور جلال اسقدر حلول کر چکا تھا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ما رمیت اذ رمیت ولكن الله رمى ميزات الذين يبايعونك انما يبايعوز الله ید الله فوق ایدیهم ، اور پھر اسکوا ستقدر قرب بخش که فرما دیا قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم اللہ یعنی اے لوگو اگراللہ تعالی کی کوئی محبت تمھارے دلوں میں ہے تو آؤ میرے پیچھے ہو لو تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بنجاؤ۔سبحان اللہ کتنا بڑا رتبہ ہے اس شخص کا جسکی اتساع انسان کو اللہ تعالی کا محبوب بنا دیوے مگر باوجود اس بات کے انکار کرنے والے نے انکار کیا، اور