کلمۃ الفصل — Page 2
نمبر ۳ و ۴۴ ریویو آن دیلمجنز جلد ۱۴ الله الرحمن الرحيم لة الكرام درباره مسئله کفر و اسلام در قمر ده حضرت صاجزادہ مرزا بشیر، محمد صاحب بی ) قرآن شریف کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے نبوت اور رسالت کے سلسلہ کو جاری فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا ان من امة الأخلا فيها نذير يعني صفة دنيا ے کوئی توم جیسی نہیں ہے جس کی ہدایت اور دستگاری کے لیے ہم نے اپنی طرف سے کوئی ایسا شخص مبعوث کیا ہو جو لوگوں کو ان کے بد اعمال کے نتائج سے آگاہ کرے اور ان کو اس آخری عذاب یعلی جہنم میں پڑنے سے بچائے جو ازل سے منکروں کے لیئے تجویز کیا گیا ہے لیکن يا حسرة على العباد ما يأتيهم من رسول الا كانوا به يستهزون ، کوئی رسول لیا نہیں آیا جسکی پہلی آواز پر ہی اس کی تمام قوم نے لبیک کا نعرہ بلند کیا ہو اور بلاچون و چرا اس کے پیچھے ہو لئے ہوں حتی کہ نبیوں کے برتاج سید الاولین والآخرین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ الره وسلم بھی لوگوں کی مخالفت سے نہ بیچے بلکہ یہ کما ل نہ ہوگا کہ جس سختی اور شد ومد کے ساتھ آپ کی مخالفت ہوئی ایسی کسی کی نہیں ہوئی اسکی وجہ یہی تھی کہ آپ کو وہ نور دیا گیا تھا جس کی روشنی کے سامنے سارے نور ماند پڑ گئے۔غرضیکہ اللہ تعالی کی قدیم سے سنت چلی آئی ہے کہ وہ ایکٹ موں کی مشت کے بعد اسکی قوم کو جو اس مامور کے مبعوث ہو نے پہلا الفرملة واحدة کے حکم کے استحت ایک ہی رنگ میں رنگین ہوتی ہے دو حصوں منقسم کر دیا کرتا ہے۔ایک جو اللہ کے رسول کی نیدا پر بہنا انا معنا مناديا ينادى للايمان ان امنوا بربكم فامنا الآیة کہتے ہوئے