کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 95

کلمۃ الفصل — Page 29

١١٨ كالفصل نہ پکار سکیں اسکی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر شیر تین قسم کے ہوتے ہوں ایک سفید ایک سرخ اور ایک زرد تو ہم سفید اور سرخ شیر کو تو شیر کہیں مگر زرد شیر کو شیر کے نام سے نہ پکاریں ظاہر ہے کہ شیر کا زرد ہونا اسے شیر ہونے کی حیثیت سے نیچے نہیں گرا دیتا اسی طرح مسیح موعود کا علی نبی ہوتا مسیح موعود سے نبوت کو نہیں چھینتا بلکہ صرف نبوت کی قسم ظاہر کرتا ہے اور اگر ایک چیز کی قسم بتانے سے اس چیز کی ہستی باطل ہو جاتی ہے تو نعوذ باسد نبی کریم کی نبوت بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ آپ کی نبوت بھی تشریعی نبوت تھی جو نبوت کی ایک قسم ہے پس یہ ایک بچوں کا سا خیال ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ میں حقیقی ہو تنتقل نی تو شامل ہیں مگر ظلی نبی نہیں کیونکہ جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی قسمیں ہیں۔اسی طرح ظلی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے اور جو حقیقی اور مستقل نبیوں کو حقوق مال ہیں وہی ظلی نبی کو بھی حاصل ہیں کیونکہ نفس نبوت میں کوئی فرق نہیں۔دراصل یہ سارا د ھو کا نموت کے حقیقی معنوں پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود ۴ برا ہمیں حصہ پنجم صفحہ ۱۳ میں لکھتے ہیں کہ نبی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ شریعت لائے اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ کسی صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو بلکہ نبی کے لیے صرفت اسی قدر ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالٰی سے بکثرت امور غیبیہ سے اطلاع پائے اور خدا اس سے کثرت کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرے اور اپنی وحی میں اس کا نام نبی رکھے پس اگر کسی افسان میں یہ تین باتیں جمع ہیں تو لاریب وہ نبی ہے۔باقی رہا نبوت کی قسم کا سوال سوا سکے متعلق میں اور پر لکھ آیا ہوں کہ اب حقیقی نبوت اور نبوت مستقل کا دروازہ قطعی طور پر بند ہے اور جو کوئی بھی قرآن کے بعد نئی شریعت لانے کا دعوی کرتا ہے یا کہتا ہے کہ نبی کریم سے آزاد رہ کرمجھ کو نبوت ملی ہے وہ پکا کا فرادر دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ظلی نبوت کا دروازہ بند نہیں اور اسی قسم کی نبوت کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا ہے۔اس جگہ میں یہ بات بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں جہاں کہیں بھی حقیقی بوت کا ذکر ہے وہاں اس سے مراد ایسی نبوت ہے جسکے ساتھ کوئی نئی شریعت ہو ورنہ حقیقی کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت حقیقی ہی ہوتی ہے جعلی یا فرضی نہیں اور مسیح