کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 23 of 95

کلمۃ الفصل — Page 23

۱۱۲ کا لفصل جلد ۱۴ خوب سمجھتی تھیں کہ لا نبی بعدی کے وہی معنی ہیں جو خاتم النبین کے ہیں لیکن آپ نے عوام الناس کو ٹھوکر سے بچانے کے لیے فرمایاکہ قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نہیں بعدہ مگر وائے قسمت مسلمانوں کی کہ میں ٹھوکر سے انکو ان کی مادر شفق نے متنی کردیا تھا انہوں نے اسی جگہ ٹھوکر کھائی۔اس جگہ یہ یاد رہے کہ آجتک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے اول تشریعی نبوت جس کی دو موٹی مثالیں موسی کی نبوت اور نبوت محمدیہ میں ایسی نبوت کو مسیح موعود نے حقیقی نبوت کے نام سے پکارا ہے۔دوئیم وہ نبوت جس کے لیے تشریعی یعنی حقیقی منافرودی نہیں بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ بلا واسطہ جناب باری تعالٰی کی طرف سے ملے جیسے عیسی یمنی داؤد سلیمان اور ذکریا علیہم السلام کی نبوتیں یہ لوگ گو موسی کی شریعیت کے پابند تھے اور ان کاشن صرف تورات کی اشاعت تھا لیکن تاہم انہوں نے موسی کی اتباع کی وجہ سے نبوت نہیں پانی کیونکہ تورات کی تعلیم و و خصوصیات زمانی اور مکانی کے اس درجہ کی نہ تھی کہ اس پر کار بند ہونے کی وجہ سے کوئی شخص نبوت کا درجہ پا سکے بلکہ ایک حد تک تورات انسان کو چلاتی تھی اور پھر جبکو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا درجہ دینا ہوتا تھا اور براہ راست بلند کر کے نبوت عطا کی جاتی تھی اسی نبوت حضرت مسیح موعود کی اصطلاح میں مستقل بنوت ہے تیسری قسم نبوت کی ظلی نبوت ہے جنکے یہ معنی ہیں کہ ن تو انسان کوئی نئی شریعت لائے جس سے حقیقی نبی بنجاتا ہے جیسے موسیٰ اور نہ اُسے براہ راست نبوت ملی ہو جس سے مستقل نبی کہلاتا ہے جیسے عیسی بلکہ ایک ایسے کامل انسان کی اتباع کی وجہ سے نبوت ملے جسکے قدم بقدم چلنا نبوت کے درجہ تک پہنچا دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی نبوت بھی کر یم کلم سے پہلے ممکن تھی کیونکہ آپے پہلے کوئی ایسا شخص نہ گذرا تھا جسکی کامل اتباع کی وجہ سے اللہ تعالی کی طرف سے نبوت مل سکے اور نہ قرآن کریم سے پہلے کوئی ایسی کتاب تھی جسپر پورے طور پر کاربند ہونے سے انسان نبوت کا درجہ حاصل کر سکے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے پہلے حقیقی اور مستقل نبی تو ہوتے رہے گرفتی نبی کوئی نہ ہوا کیونکہ آپ سے پہلے دنیا میں کوئی کامل انسان موجود نہ تھا اور قرآن سے پہلے کوئی کامل کتاب نہ تھی مگر آپ کی آمد سے