کلمۃ الفصل — Page 21
کا لفصل جلد جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تعریق کریں یعنی اللہ پر ایمان لے آئیں اور رسولوں کو نہ مانیں یا کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں بھی مانتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی بین بین کی راہ نکالیں یہی لوگ پکتے کا فر ہیں اور۔اللہ نے کافروں کے لیے ذلیل کرنیوالا عذاب تجویز کیا اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کھلے الفاظ میں ان لوگوں کا ذکیا ہے جو تمام رسولوں کا مانناجر، و ایمان نہیں سمجھتے ہیں اس آیت کے ماتحت ہر ایک ایسا شخص جو موسی کو تو مانتاہی کی سٹی کونہیں مانا یا عیسی کو اتار کر خود کو نہیں مانتا اور تا محمد کو مانتا ہے پر سیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کا فر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتوی ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ اُس کی طرف سے ہے جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لیے اولیك هم الكافرون حقاف باہر نتدبروا اور اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت میں تو صرف رسولوں پر ایمان لانے کا سوال ہے سیح موعود کا کوئی ذکر نہیں ایساکسن ایک فلم عظیم ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں سیح موعود کے متعلق بیسیوں جگہ نبی اور رسول کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا۔دنیا میں ایک نہی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا ، یا جیسے فرمایا یا ایھا النبي اطعو الجائع والمعتر يا جس طرح فرمایا انى مع الرسول اقوم اور مسیح رود نے ابھی اپنی کتابوں میں اپنے دعوئی رسالت اور نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ ہمارا دعوی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں بار دیکھو تری ہ مارچ مشگیام یا جیساکہ آپ نے لکھا ہے کہ مد میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔اور میں حالت میں خامیرا نام نہی رکھتا ہے تومیں کیونک اس سے انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اسوقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں " دیکھ موخ حضرت مسیح موعود بطرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور ) یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات صرف تین دن پہلے یعنی ۲۳ میٹی مسئلہ کو لکھا اور آپ کا یوم وصال ۲۶۔مئی منشاء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔پھر اسی پر بس نہیں کہ مسیح موعود نے نبوت کا دعوی کیا ہے بلکہ جنوں کے ران محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پی اے سی کا نام ہی اللہ رکھا یا ان مسلم سے