کلمۃ الفصل — Page 18
ریویو آف ریلیجنز 1۔6 صفحه ۱۶۳ پر تحریر فرمایا ہے کہ " جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور پھر دیکھو د کورہ بالا دونوں اصول میری اپنی طرف سے نہیں ہیں بلکہ ابھی سچائی پر اس شخص نے قہر لگائی ہے جس کو تم لوگ حکم اور عدل کے نام سے پکارتے ہو۔اس قدر لکھنے کے بعد میں اس مضمون کو مختلف ابوں میں تقسیم کرتا ہوں ا مختلف پہلوؤں سے مضمون پر روشنی ڈالی جاسکے۔دما توفیقی الا بالله باب اول اس ب میں بعض ان قرآنی آیت کا ذکر ہو گا جن سے اس بات کا پتہ لگتا ہے کہ امرتان نے تمام رسولوں پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا ہے اور اُن لوگوں کو کافر کے نام سے پکارا ہے جو سب رسولوں پر ایمان لانا ضروری نہیں سمجھتے۔سوجو اضح ہو کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفت میں فرمایا ہے کہ انکاتی قول ہوتا ہے کہ لا نفرق بین احد من رسله (آخری رکوع سوره بقری مینی انلاین کے رسولوں میں تفریق نہیں کرتے یہ کہ بعض کو مانیں اور بعض کا انکار کر دیں پس ثابت ہوا کہ مومن بننے کے لیے اللہ تعالٰی نے اس بات کو ضروری قرار دیا ہے کہ اسکے تمام رسولوں کو بلا تفریق مانا جادے اور یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ بالا رسولوں کے مدارج کے متعلق ہے ان پر ایمان لانے کے متعلق نہیں یہ ایسے لوگوں کی کم علمی اور قلت تدبیر پول است کرتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری جگہ قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ تلک الرسول فضلنا بعضهم على بعض معنی ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی ہو۔پس ایسی صاف اور محکم آیت کے موجود ہوتے ہوئے تبھی جو شخص کا نفرق بین احد مزے مسلہ کے یہ معنی کرتا ہے کہ ہم رسولوں کے مدارج میں فرق نہیں کرتے وہ قرآن کریم کی اس آیت سے ڈرے کہ فاما الذين في قلوبهم زيح فيتعون ما تشابه منه الخ پس یہ بات بالکل یقینی ہے کہ ہر ایک وہ شخص جسکو ایمان