کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 95

کلمۃ الفصل — Page 17

كلمة الفصل جلد ۱۴ تک راہ اختیار کر کے کھلے بندوں غیروں سے ہم آغوش ہو جائے دوسرا اصول جو بینے اس مضمون کے شروع میں بیان کیا تھا وہ یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالی کسی مامور کو مبعوث نہیں فرماتا جناب دنیا کے لوگ انہی صفات میں سے کسی صفت کو عملی طور پر معطل نہ قرار نہ دینے لگیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا نورانی چہرہ اہل دنیا کی نظر میں گرد آلود نہ ہو جاوے اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ وہ جو اللہ تعالیٰ کے کسی مرسل کا انکار کرتا ہے در حقیقت خود ذات باری تعالی کا انکار کرتاہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ایمان باللہ اور ایمان بالرسل کو لازم ملزوم کے طور پر رکھا ہے کیونکہ رسولوں پر ایمان لانے کے بغیر توحید کامل نہیں ہو سکتی۔نجات کے لیے صرف یہ کہد بنا کافی نہیں ہے کہ اللہ ایک ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو اسکی تمام صفات کے ساتھ منصف ماننا از بس ضروری ہے اور یہ بات کبھی حاصل نہیں ہو سکتی جبتک توحید کو رسولوں کے ذریعہ نہ سیکھا جائے اس مضمون کو حضرت مسیح موعود نے حقیقة الوحی میں خوب کھول کر بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ فطرتی ایمان ایک لعنت ہے اور یہ کہ ایمان باللہ ایمان بالرسل کے بغیر کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔اب اگر یہ مانا جاوے کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے دنیا میں حقیقی توحید موجود تھی جس پر کہ نجات کا مدار ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو بھیجنے سے نعوذ باللہ ایک لغو کام کیا اورتحصیل حاصل کے لیے دنیا کو خواہ مخواہ مصائب کے پنجے میں گرفتار کر دیا اور اگر یہ مانا جاوے کہ میسنج موعود عین وقت پر دنیا میں بھیجا گیا جب کہ دنیا کو اسکی بڑی ضرورت تھی تو پھر اس بات کا سے انکار نہیں ہو سکتا کہ جو اُسے نہیں مانتا اس میں حقیقی تو حید نہیں پس اب تم کو اختیار سے کہ یا تو مسیح موعود کی بعثت کو بے وقت قراردو اور خدا کے کام کو لغو جانو اور یا پھر اس بات کا اقرار کرو کہ و مسیح موعود کا انکار کرتا ہے اس میں ایمان کی بو نہیں اور وہ باطن میں خدا کا منکر ہے۔غرض : دو اصول جو مینے اوپر بیان کیئے ہیں صاف طور پر بتا رہی ہیں کہ کسی و زین اللہ کا انکار کوئی معمولی بات نہیں ہے اور خاصکہ اُس فرد کامل کا انکار میں کا دنیا میں انا خود محمد صلعم کا آنا ہے۔فتدبر اب اسقدر سمجھ لینے کے بعد مسیح موعود کے اس فقرہ پر نظر ڈالو جو اس نے حقیقۃ الوحی