کلمۃ الفصل — Page 16
نمبر ۳ ریویو ان الجز۔کا کام پورا کرے اور ھو الذی ارسل رسوله با الهدى ودين الحق ليظهرة على الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام محبت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالی نے پھر محمد صلعم کو اتارا ا اپنے وعدہ کو پورا کیے جو اس نے آخرین منهموما یلحقوا بهم میں فرمایا تھا یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ مسیح موعود نے خود خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۸۰ میں آیت آخرین منھم کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ در کس طرح منہم کے لفظ کا مفہوم تحقیق ہو اگر رسول کریم آخرین میں موجود نہ ہوں جیسا پہلوں میں موجود تھے ، پس وہ جس نے مسیح موعود اور نبی کر غم کو دو وجودوں کے رنگ میں لیا اس نے مسیح موعود کی مخالفت کی کیونکہ مسیح موعود کہتا ہے صار وجودی موجو اور جس نے مسیح موعود اور نبی کریم میں تفریق کی اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا کیونکہ مسیح موعود صاحت فرماتا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفة فما عرفنی و ماملائی ، دیکھو خطبہ الہامیہ صفورا) اور نہ دیں مسیح موت کی میت کے نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈالدیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہ رہا ہے کہ محمد رسول للہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئیگا۔پس ان سب باتوں کے سمجھ لینے کے بعد اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ وہ جس نے مسیح موعود کا انکار کیا اس نے مسیح موعود کا انکار نہیں کیا۔بلکہ اس نے اس کا انکار کیا جسکی بہشت شانی کے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے مسیح موعود مبعوت ) کیا گیا اور اس نے اسکا انکار کیا جس نے اخرین میں آنا تھا اور پھر اس نے اس کا انکار کیا جس نے اپنی قبر سے اٹھکر حسب وعدہ پھر اپنی قبر میں جانا تھا پس اے نادان ! تو مسیح موعود کے انکار کو کوئی معمولی بات نہ جان کیونکہ محمد نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نبوت کی چادر اسپر چڑھائی ہے اور اگر تیرا دل غیروں کے پنجے میں گرفتار ہے اور انکی محبت تجھے چین نہیں لینے دیتی تو بجا پہلے آخرین منھم کی آیت قرآن سے نکال پھینک اور پھر جو تیرے دل میں آئے گئے۔کیونکہ جبتک یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہر اسوقت یک تو مجبو ہے کہ مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرنے اور یا مسیح موعود سے ارتدادی