کلمۃ الفصل — Page 90
نمبر ۲ ریویو آن ید امیجز 169 تا وہ ایک ذریعہ سے لوگوں کو اسلام کی تعریف کھائے ہیں جب اس نے آنحضرت کے قول پر صدقت کہ تو گویا خود رات باری تعالٰی نے صدقت کہا۔اب اسکے بعد کوئی شخص مسلمان ہونیکی حالت میں ہ نہیں کہ سکتا کہ دائرہ اسلام کے اندر آنے کیلئے صرف توحید کا اقرار کافی ہے دیکھو قرآن کریم شہادت دے رہا ہو کہ ایان کے لیے صرف لا الہ الا اللہ کافی نہیں ہے بلکہ جو لوگ ایمان باللہ کے ساتھ ایمان الرسل نہیں لاتے انکو او ليك هم الكافرون حقا کہتا ہے پھر بی کریم صاف الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ صرف توحید کے اقرار سے کوئی شخص اسلام میں داخل نہیں ہو جاتا پھر جبریل نبی کریم کے اس قول پر صدقت کہتا ہے اور پھر اس پر بس نہیں بلکہ عقل سلیم بھی یہی کہتی ہو کہ خشک توحید جسکے ساتھ رسالت کی شمع نہ ہو ایمان کے لیے کافی نہیں بلکہ حضرت مسیح موجود نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ وہ ایمان باللہ جسکے ساتھ ایمان بالرسل شامل نہیں ایک لعنتی ایمان ہے جو آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔پس ہم اب آپنی شہادتوں کے بعد مولوی محمد علی صاحب کی کسی تحری کہ کیا کریں۔مولوی صاحب موصوف نے اپنے قول کے ثبوت میں یہ حدیث بھی لکھی ہے۔من قال لا اله الا الله دخل الجنة - سو اس کے متعلق میں پہلے ہی لکھ آیا ہوں کہ اسکے معنی ہرگز نہیں کہ توحید کا قائل ہونا نجات کے لیے کافی ہے بلکہ لا الہ الا اللہ کو بطور اختصار کے لیا گیا ہے ور نہ حقیقت اسکے اندر محمد رسول اللہ بھی شامل ہے جیسا کہ خود نبی کریم نے اسکے معنی کیئے ہیں حدیث میں آتا ہے قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اتدرون ما الإيمان بالله وحده قالوا الله ورسوله اعلم قال شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله یعنی نبی کریم نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کو ایکٹ بنے کے کیا معنی ہیں ؟ صحابہ نے جواب دیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں آپنے فرمایا کہ ایمان باشد کے یعنی ہیں کہ تو اس بات کا اقرار کرے کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسولی ہے۔اب بتاؤ کہ کیا۔خلق خدا کو دھوکا دنیا نہیں ہے کہ من قال لا اله الا الله دخل الجمعة کے یعنی کیئے جاویں کہ صرف تو حید نجات کے لیے کافی ہے۔اصل میں آیات قرآنی اور احادیث کے معنی کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔اور اس اصول کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ متشابہات کو محکمات کے ماتحت کا یا جاد ہے۔ورنہ اگر ایسانہ کیا جاوے تو شریعت اسلام