کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 95

کلمۃ الفصل — Page 72

نمبر ۲ ریویو آن را لحجز اپنا رحم کرے۔اب اپنے اعتراض کا حقیقی جواب بھی سن لو اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی دو حیثیتیں ہیں وہ خلیفہ بھی ہیں اور نبی بھی۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں ان مہر دو ناموں سے یاد کیا ہے جیسا کہ آپ کا امام ہے اردت ان استخلف فخلقت ادم یعنی خدا کہتا ہے کہ لینے ارادہ کیا کہ ایک خلیفہ بناؤں پس لینے اس آدم کو پیدا کیا۔اس الہام میں سیح موعود کو خلیفہ کیا گیا ہے اسکے علاوہ مسیح موعود نے ویسے بھی اپنے آپ کو آنحضرت کے ایک بینی خلیفہ کے طور پر پیش کیا ہے مگر ایک اور آپ کا الہام ہے یا ایھا النبی عموا الجائع والمحتر اس میں آپ کو نبی کا خطاب دیا گیا ہے پھر ایک اور الہام ہے آنی مع الرسول اقوم اس الہام میں مسیح موعود کو رسول کہا گیا ہے۔اب بات بالکل صاف ہے۔چونکہ آپ خلیفہ تھے اس لیے آپ کا منکر فاسق ہے اور چونکہ آپ نبی اور رسول تھے اس لیے آپ کا منکر کا فر ہے۔فتد بروا آٹھواں اعتراض یہ پیش کیاجاتا ہے کہ اگر مسیح موعود واقعی ہر ایک این شخص کو کافر سمجھتے تھے جس نے آپ کو قبول نہیں کیا تو پھر آپ نے یہ کیوں لکھا کہ اگر میرے مخالف ان مولویوں کو کا فرکہدیں جنہوں نے مجھ پر کفر کا فتوی لگایا ہے تو میں انکو مسلمان سمجھ لونگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مسیح موعود کے انکار سے کوئی شخص کافر نہیں ہو جاتا بلکہ ایک ایسی صورت بھی نکل سکتی ہے جس میں انسان مسیح موعود کو قبول بھی کرے اور پھر حقیقی مسلمان بھی رہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال قلبت تدبر کا نتیجہ ہے ورنہ بات بالکل صاف ہے۔اور وہ یہ کہ اصل عقیدہ حضرت مسیح موعود کا رہی ہے جو اپنے اپنے الہام کی بناپر عبد الحلی منان کو لکھا اور باقی جو کچھ ہے وہ اس الہام کے ثبوت میں ہے۔ورنہ یہ کیسے مکن ہے کہ آپ اور تھا کے مرتاح حکم کے خلاف بات کہنی شروع کر دیں اس لیئے ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی تمام عیار توس کو آپکے امام کی تشریح قرار دیں کیونکہ الہام ایک محکم آیت کی صورت میں ہے پس میں تو یہی کہوں گا کہ حضرت مسیح موعود نے مختلف طریقوں میں اپنے الہام کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور دلائل کے طور پر کئی باتوں کو پیش کیا ہے مثلا یہ کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ حقیقت میں مجھے کو کافر قرار دیتا ہے اس لیے خود کافر بنتا ہے یا یہ کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ حقیقت میں