کلمۃ الفصل — Page 38
نمبر۳ ریویو آت الحر ۱۲۷ فرقوں کو جو دعوائے اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑیگا یا پھر اس کے علاوہ اشتہار ایک غلطی کے ازالہ میں حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ معہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیے گئے ہیں اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہند و یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت کہ سکے نبوت کی تمام کھڑا کیاں بند کی گئی ہیں مگرایک مکھڑ کی اس تحریر میں حضرت موعود نے غیر احمدیوں کو ہی مسلمان کے نام سے یاد کیا ہے پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ حضرت صاحہ نے جہاں کہیں بھی غیر احمدیوں کو مسلمان کہ کر پکارا ہے وہاں صرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دھوئی کرتے ہیں ورنہ آپ حسب حکم الہی اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے دیکھو خط حضرت یح موعود بجواب خطاب العلیم خان رقم اس سنت حضرت مسیح موعود کے ایک امام نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔اور وہ الہام یہ ہے :- چودور خسرو می آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند اس العامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے منگروں کو مسلمان بھی کیا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے ان کو مسلمان تو اس غرض سے کہا گیا کہ وہ دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں اور اگر یہ نام ان کے لیے استعمال نہ کیا جاتا تو پھر پہ کس طرح لگتا کہ کون لوگ مراد ہیں اور پھر انکے اسلام کا اہم کار اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں فتد بردا۔اسی حقیقت کو حضرت مسیح موعود ے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۸ و ۸۲ میں اشکارا کیا ہے چنا نچھا آپ اپنے زمانہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ :۔در یہ ایک ایسا مبارک زمانہ ہے کہ فضل اور جودا امی نے مقدر کر رکھا ہے کہ یہ زمانہ پرلوگوں کو سی پڑ کے رنگ میں لائیگا اور آسمان سے کچھ ایسی ہوا چلے گی کہ یہ تہتر فرقے مسلمانوں کے جن میں بجز ایک کے سب عار اسلام اور بدنام کننده اس پاک چشمہ کے میں خود بخود کم ہوتے جائینگے اور تمام ناپاک فرقے جو اسلام میں مگر اسلام کی حقیقت کے منافی ہیں صفحہ زمین سے نابود ہو کر ایک ہی فرقہ رہ جائیں گا جوصحابہ رضی اللہ عنہم کے رنگ پر ہو گا یا حضت مسیح علی