کلید دعوت — Page 26
مضمون حوالہ - میرے اعتقاد میں کوئی ابہام نہیں میں نے صرف یہ کہا ہفت روزہ ایشیاء صفحہ 5 21 نومبر ہے کہ زندہ جسمانی طور پر اٹھائے جانے کی صراحت قرآن ( 1961ء (ایک سوال کے جواب میں) میں نہیں ہے۔مسیح علیہ السلام کے " رفع " کا مسئلہ متشابہات میں سے اخبار کو ٹر 21 فروری 1961ء ہے ا "حیات مسیح اور رفع الی السماء" قطعی طور پر ثابت تقریر مورودی صاحب نہیں۔قرآن کی مختلف آیات سے یقین پیدا نہیں ہوتا اچھرو لاہور 28/3/57 بحر الہ آئینہ -۱۷ قرآن کریم نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان تقسیم القرآن جلد اول صفحہ 420 (حضرت عیسی علیہ السلام) کو جسم و روح کے ساتھ کرہ ارض ماشیہ زیر آیت بل رفعه الله سے اٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا اور نہ ہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی اليه - قرآن کی روح سے زیادہ مطابقت اگر کوئی طرز عمل تقسیم القرآن جلد اول صفحہ 421 رکھتا ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ "رفع جسمانی " کی تصریح سورہ انسا سے بھی اجتناب کیا جائے اور موت کی تصریح سے بھی۔اس کی کیفیت کو اس طرح مجمل چھوڑ دیا جائے جس طرح اللہ تعالی نے خود مجمل چھوڑ دیا ہے۔vi قرآن میں اگر چہ تصریح نہیں مگر دو آیات ایسی ہیں جن بیان در تحقیقاتی عدالت 5- مئی سے اس (وفات مسیح) کا اشارہ نکلتا ہے۔حضرت عیسی کشمیر میں 1 واوينهما إلى ربوة ذات قرار و معين اور ہم نے دونوں (حضرت عیسی علیہ السلام اور انکی والدہ ماجدہ) کو ایک اونچی پر سکون اور چشموں والی جگہ میں پناہ دی 2 يا عيسى انتقل من مكان الى مكان لئلا تعرف 54ء بحوالہ ہفت روزہ لاہور 25 تمبر 93ء صفحہ 14 المومنون : 51