کلید دعوت

by Other Authors

Page 120 of 211

کلید دعوت — Page 120

جاتے ہوئے شرم آئی اس لئے تامل کیا حضرت نے مکرر فرمایا کہ جاؤ ہم کہتے ہیں میں گیا اندر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنما تشریف رکھتی تھیں آپ نے سینہ مبارک بالکل کھول کر مجھے سینہ سے لگالیا اور بہت پیار کیا۔(درویش پریس دہلی کے صفحہ ۵۰ پر یہی عبارت ہے) پس نہ یہ بزرگ اپنے خوابوں کی بناء پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں، اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کشف سے کسی قسم کی تو ہین لازم آتی ہے۔کیونکہ کشف ہمیشہ تعبیر طلب ہوتے ہیں جیسا قرآن کریم میں حضرت یوسف سورج چاند اور گیارہ ستارے دیکھنا کہ وہ حضرت یوسف کو سجدہ کر رہے ہیں۔ظاہر پرست تو اس پر بھی اعتراض کر سکتا ہے لیکن تغییر پر کوئی اعتراض نہیں۔اعتراض -:- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو ذریتہ البغایا " کہا ہے۔جواب : كل مسلم يقبلني و يصدق دعوتى الاذرية البغايا " ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۸٬۵۴۷ مطبوعہ ریاض ہند) یہی لفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور جگہ پر بیان فرمایا اور اس کا ترجمہ بھی خود فرمایا۔اذیتنی خينا فلست بصادق ان لم تمت بالخزي بابن بغاء (انجام آنقم صفحه ۳۸۲) یعنی خباثت سے تو نے مجھے ایذاء دی ہے پس اگر اب تو رسوائی سے ہلاک نہ ہوا تو میں اپنے دعوئی میں سچا نہ ٹھہروں گا۔"اے سرکش انسان" (احکم جلد نمبرے فروری ۱۹۰۷ء صفحہ 1) ذریتہ البغایا کے الفاظ انہی معنوں میں حضرت امام ابو جعفر علیہ السلام نے بھی استعمال فرمائے ہیں چنانچہ ابو حمزہ سے مروی ہے:۔" عن أبي جعفر عليه السلام قال قلت له ان بعض اصحابنا يفترون ويقذفون من خالفهم فقال ا لكف عنهم اجمل ثم قال والله يا ابا حمزة ان الناس كلهم اولاد البغايا- ما خلا شيعتنا فروع کافی جلد ۳ کتاب الروضہ مطبوعہ نو کشور صفحه ۱۳۵) میں نے امام باقر علیہ السلام سے کہا کہ بعض لوگ اپنے مخالفین پر افتراء باندھتے ہیں اور بہتان لگاتے ہیں آپ نے فرمایا۔ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا اچھا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اے ابو حمزہ خدا کی قسم ہمارے گروہ کے علاوہ باقی تمام لوگ اولاد بنایا ہیں (یعنی دشمنان اہل بیت سرکش