کلید دعوت

by Other Authors

Page 118 of 211

کلید دعوت — Page 118

وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے۔بلکہ وہ تمام تحریر میں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہے۔مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے جواب میں کسی قدر سختی مصلحت تھی۔اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں۔جس کا نام میں نے کتاب البریہ رکھا ہے اور بائیں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔ابتداء سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا۔لیکن دو مصلحت کے سب میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔اول :- یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا تختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔دوم:- یہ کہ مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان خوش میں نہ آدیں۔اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی سے جواب ان کو مل گیا"۔(کتاب البریہ صفحہ 11) اعتراض : کتاب ایک غلطی کا ازالہ کی عبارت "حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں" پر معترض نے اعتراض کیا ہے کہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت فاطمہ کی توہین کی ہے۔جواب :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف ” ایک نہایت ہی روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد مین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت جس سے جو خفیف سے نشر سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یکدفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔یعنی جناب پیغمبر خدا او حضرت علی و حسین و فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سرا اپنی ران پر رکھ لیا"۔کشف کی حقیقت (براہین احمدیہ حصہ چهارم حاشیه در حاشیه صفحه ۵۰۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی متعدد کتب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو مادر مہربان اور اپنے آپ کو فرزند اور بیٹے کی حقیقت دیتے ہوئے خود اپنے اس کشف کی حقیقت کو ظاہر فرمایا ہے۔