کلید دعوت — Page 107
اہل حدیث اور دیو بند علماء کی نظر میں انگریزی حکومت مولانا نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں:۔پارے ہندوستان کی عافیت اسی میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے جو نہ ہندو ہونہ مسلمان ہو کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو (انگریز ہی نہیں جو بھی مرضی ہو یورپ کا ہو سہی مگر خدا کی بے انتہا مہربانی اسکی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ ہوئے" (مجموعہ لیکچرز مولانانذیر احمد دہلوی صفحه ۵٬۴ مطبوع ۶۱۸۹۰) پھر فرماتے ہیں:- کیا گورنمنٹ جابر اور سخت گیر ہے تو بہ تو بہ ماں باپ سے بڑھ کر شفیق" مولانا محمد حسین بٹالوی اور انگریز (مجموعه لیکچرز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحه (۱۹) "سلطان روم۔۔۔ایک اسلامی بادشاہ ہے لیکن امن عامہ اور حسن انتظام کے لحاظ سے مذہب قطع نظر برٹش گورنمنٹ بھی ہم مسلمانوں کیلئے کچھ کم فخر کا موجب نہیں ہے اور خاص گروہ اہل حدیث کیلئے تو یہ سلطنت بلحاظ امن و آزادی اس وقت کی تمام اسلامی سلطنتوں (روم ایران خراسان) سے بڑھ کر فخر کا محل ہے"۔ار ساله اشاعه السته نمبر ۱ صفحه ۲۹۲ جلد نمبر پھر فرماتے ہیں۔اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہل حدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں۔اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے ار ساله اشاعه السنه نمبر ۱۰ صفحه ۲۹ جلد نمبر ۱۴ سے بہتر جانتے ہیں"۔مولانا ظفر علی خان اور انگریز "مسلمان۔ایک لمحہ کیلئے بھی اسی حکومت سے بدظن ہونے کا خیال نہیں کرسکتے (یعنی انگریزوں سے ناقل اگر کوئی مسلمان گو ر نمنٹ سے سرکشی کی جرات کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں"۔(اخبار زمیندار لاہور 11 نومبر 411) اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کیلئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے"۔(اخبار زمیندار لاہور ۲۳۔تو میر ا ( ) پھر نظم کی صورت میں فرماتے ہیں:۔جھکا فرط عقیدت سے میرا سر ہوا جب تذکره کنگ ایمپرا کا