کلید دعوت

by Other Authors

Page 102 of 211

کلید دعوت — Page 102

دور ہے۔" ہے۔آج قلم کا فتنہ بڑا پھیل گیا ہے۔آج قلم کے ساتھ جہاد کرنے والا سب سے بڑا مجاہد جناب مودودی صاحب لکھتے ہیں۔امابنامه خدام الدین یکم اکتوبر ۲۱۹۶۵) " ہمارے ہراس شخص کو جسے اللہ تعالیٰ نے زبان و قلم سے کام لینے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔اس معاملہ میں اپنا فرض پور کی طرح انجام دینا چاہئے۔یہ جہاد تلوار کے جہاد سے اپنی اہمیت میں کچھ کم نہیں ہے۔روزنامه مشرق لاہور ۱۳- اکتوبر ۱۹۹۵ء صفحه (۲) جہاد اصغر اور جماعت احمدیہ کا کردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف یا جہاد اصغر کے التواء کا اعلان فرمایا وہاں یہ بھی فرمایا میں جہاد (روحانی) ہے۔جب تک خداتعالی کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔" آپ کی وفات کے کافی عرصہ بعد پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو اس کے متعلق جماعت احمدیہ کے دو میرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جماعت کی پالیسی کے بارہ میں فرمایا:- ایک زمانہ ایسا تھا کہ غیر قوم ہم پر حاکم تھی اور وہ غیر قوم امن پسند تھی۔مذہبی معاملات میں وہ کسی قسم کا دخل نہیں دیتی تھی۔اس کے متعلق شریعت کا حکم یہی تھا کہ اس کے ساتھ جہاد جائز نہیں۔" پھر فرماتے ہیں:۔اب حالات بالکل مختلف ہیں۔اب اگر پاکستان سے کسی ملک کی لڑائی ہو گئی تو حکومت کے ساتھ ( تائید میں) ہمیں لڑنا پڑے گا۔اور حکومت کی تائید میں ہمیں جنگ کرنی پڑے گی۔" پھر فرماتے ہیں۔" جب کبھی جہاد کا موقعہ آئے ہمیں اپنے ملک اپنے اموال اور اپنی عزتوں کی حفاظت کیلئے قربانی کرنی پڑے تو ہم اس میدان میں سب سے بہتر نمونہ دکھانے والے ہوں۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء صفحه ۱۳۴۹ ۱۴۳) واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں احمدی مجاہدین نے شاندار کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔1 جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے متعلق ایک کٹر مخالف لکھتا ہے۔" میں بیانگ دہل کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صدر کشمیر کمیٹی نے تندہی محنت ہمت جانفشانی اور بڑے جوش سے کام کیا اور اپنا روپیہ بھی خرچ کیا اور اس کی وجہ سے میں ان کی عزت کرتا ہوں۔" ( تحریک قادیان صفحه ۴۲)