کلید دعوت

by Other Authors

Page 101 of 211

کلید دعوت — Page 101

(مواقع احمدی صفحہ ۵۷ مرتبہ محمد جعفر تھانیسری) خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی لکھتے ہیں :۔انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں۔نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں۔نہ ہمارے پاس سامان حرب ہے۔ایسی صورت میں ہم لوگ ہرگز ہرگز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے۔رسالہ شیخ سنوسی صفحہ ۱۷ -6 مفتیان مکہ کے فارٹی کے بارے میں شورش کا شمیری مدیر چٹان لکھتے ہیں۔جمال دین ابن عبداللہ شیخ عمر حفی مفتی مکہ احمد بن ذہنی شافعی مفتی مکہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ سے بھی فتاوی حاصل کئے گئے۔جن میں ہندوستان کے دار الاسلام ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔(کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۱۴۱ مولفه شورش کا شمیری) سید احمد شہید جس وقت سکھوں سے جہاد کرنے جارہے تھے تو کسی نے کہا۔انگریزوں سے جہاد کیوں نہیں کرتے۔آپ نے فرمایا۔" سکھوں سے جہاد کرنے کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے برادران اسلام پر ظلم کرتے اور اذاں وغیرہ فرائض مذہبی کے ادا کرنے کے مزاحم ہو رہے ہیں۔اگر سکھ اب یا ہمارے غلبہ کے بعد ان حرکات موجب جہاد سے باز آجائیں گے تو ہم کو ان سے لڑنے کی ضرورت نہ رہے گی اور سرکار انگریزی کو منکر اسلام ہے۔مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کہتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں۔وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔" موانع احمدی مرتبه مولوی محمد جعفر تھانیسری صفحہ اے ۷۲) نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:۔جهاد بغیر شرائط شرعیہ کے اور بغیر وجود امام کے ہرگز جائز نہیں" (ترجمان وہابیہ صفحہ ۲۰) -8 سرسید احمد خان صاحب لکھتے ہیں مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستامن تھے کسی طرح گورنمنٹ کی مہداری میں جہاں نہیں کرسکتے تھے۔" ) اسباب بغاوت ہند مولقہ سرسید احمد خان صاحب صفحه ۱۰۵ مطبوعہ ۱۸۵۸ء اردو اکیڈیمی سندھ) و مولوی مسعود عالم صاحب ندوی لکھتے ہیں:- ہندوستان کی جماعت اہل حدیث کے سرکردہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔۔۔۔۔۔۔۔جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ (الاقتصاد فی مسائل الجهاد) فارسی زبان میں تصنیف فرمایا تھا" اہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک صفحه ۲۹) ; 10- جناب مولوی زاہد الحسینی کہتے ہیں۔" آج کا دور جس دور میں کہ ہم جارہے ہیں یہ جہاد بالقلم کا