کلید دعوت

by Other Authors

Page 121 of 211

کلید دعوت — Page 121

ہیں " اسکی وضاحت اخبار مجاہد لاہور -۳- مارچ ۱۹۳۶ء یوں بیان کرتا ہے۔"ولد البقایا- ابن الحرام ولد الحرام۔ابن الحلال بنت الحلال وغیرہ یہ سب عرب کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے۔جو شخص نیکوکاری کو ترک کر کے بدکاری کی طرف جاتا ہے اسکو باوجودیکہ اسکے حسب و نسب درست ہو صرف اعمال کی وجہ سے ابن الحرام ولد الحرام کہتے ہیں۔اندریں حالات امام علیہ السلام کا اپنے مخالفین کو اولاد بنایا کہنا بجا اور درست ہے۔لغت کے اعتبار سے ذریقہ البغایا کا مفہوم اخبار مجاہد لاہور -۳ مارچ ۱۹۳۹ء 1- البغية في الولد نقيض الرشد و يقال هو ابن بغية" (تاج العروس جلد ۱۰ صفحه ۴۰) یعنی کسی کو ابن مغیرہ کہنا سے مراد یہ ہے کہ وہ ہدایت سے دور ہے۔روحانیت سے عاری ہے کیونکہ یہ رشد کی نقیض ہے۔2 مقدمة الجيش " ( تكون قبل ورود الجيش ) ( تاج العروس جلد ۱۰ صفحه ۴۰) ہر اول رسته ) یعنی ایسے لوگ جو اپنے آپ کو پیشوا سمجھتے ہیں۔یعنی مولوی لوگ (۳) اسی طرح نیزے کی انی بھی مراد ہے۔یعنی ایسے مخالفین جو لیڈر ہیں اور مخالفت میں پیش پیش ہیں۔اس طرف آنحضور نے ایک حدیث میں اشارہ فرمایا ہے۔علماء هم شر من تحت اديم السماء " المشكوة جلد الكتاب العلم الفصل الثالث صفحہ ۷۸ مطبع احمدی لاہور) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ان میں نیک فطرت لوگ موجود ہیں۔اس لئے سارے لوگ کس طرح مراد ہو سکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: "ہر ایک جو سعید ہو گا وہ مجھ سے محبت کرے گا اور میری طرف کھینچا جائے گا" (بیر امین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷۲) سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق اختیار نہیں کرتے پھر فرماتے ہیں نے ایام الصلح ٹائیٹل یچ صفحه ۲ ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار زیر بحث عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام سے ہے اور خود حضور نے اس کا ترجمہ بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ذرتہ البغایا کی تشریح میں بیان فرمایا۔الذین طبع الله على قلوبهم " لعن ذریتہ البغایا کے وہ لوگ مراد ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالٰی نے مہر کر دی ہے اور حق کو قبول نہ کرنے اور مخالفت میں حد سے زیادہ بڑھ جانے والے باغی، سرکش لوگ نہ کہ کنچنیوں کی