کلید دعوت

by Other Authors

Page 116 of 211

کلید دعوت — Page 116

اعتراض :- حضرت مسیح موعود نے نجم الہدی صفحہ 10 میں تحریر فرمایا ہے کہ۔" ان العدا صار واخنازير الفلا ونساء هم من دونهن الاكلب" یعنی دشمن جنگل کے سور اور ان کی عورتیں کیتیوں سے بد تر ہیں۔اس شعر میں خطاب مسلمانوں کو کیا گیا ہے۔جواب : اس شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو مخاطب نہیں کیا بلکہ آنحضور کے دشمنوں کو مخاطب کیا ہے۔چنانچہ اس شعر سے اگلے بیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔سبوا وما ادری لاى جريمة - سبوا انعصى الحب او نتجنب " نجم الدی صفحه (۱۰) کہ انہوں نے گالیاں دی ہیں (رسول کریم ﷺ کو اور میں نہیں جانتا کہ آپ کے کس جرم کی پاداش میں ایسا کیا گیا ہے۔مگر ان کی گالیوں کی وجہ سے کیا ہم اپنے محبوب آقا اے کو چھوڑ دیں گے؟ ہر گز نہیں۔مسلمان تو آنحضور ا کو گالیاں نہیں دیتا۔اس سے یقینا وہی شخص مراد ہیں جنہوں نے آنحضور کو گالیاں دیں۔جو ابا اظہار حق کیلئے سخت الفاظ کا استعمال منع نہیں ہے۔اللہ تعالٰی بھی قرآن کریم میں دشمنان آنحضرت کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :- وجعل منهم والقردة والخنازير وعبد الطاغوت اولئک شر مکانا" (المائده : ) ان الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين في نار جهنم خالدين فيها اولئك هم شر البرية (سورة البینہ آیت نمبرے) اس طرح پر بتوں اور ان کے بزرگوں کو حصب جهنم " (سورة الانبياء : 99) (انما المشركون نجس ) (سورة توبه : ۲۹) اور " شر الدواب " ( انقال : (۲۳) اور اسی طرح "عمل بعد ذا لك زنيم" (سورۃ القلم : (۱۴) کہا گیا۔لیکن ایسے تمام الفاظ گالی کے طور پر نہیں بلکہ اظہار واقعہ کے طور پر تھے اور ایسے مخالفین سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں نہ تھے۔بلکہ محض چند افراد تھے جن کی ریشہ دوانیاں منظر عام پر آچکی تھیں۔بعینہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اول تو ان کو مخاطب ہی نہیں کیا۔بفرض محال یہ قصور کر ہی لیا جائے تب بھی آپ کے چند اشد معاندین مراد ہیں نہ کہ عام صالح علماء حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔نعوذ بالله من هتك العلماء الصالحين و قدح الشرفاء المهذبين سواء كانوا من المسلمين او المسيحين او الارية الجد النور صفحه (۱۷) ترجمہ: کہ ہم صالح علماء کی بنک اور شرفاء کی توہین سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں۔خواہ ایسے لوگ مسلمان ہوں یا عیسائی یا آریہ۔پھر فرماتے ہیں :-