کلید دعوت — Page 113
ذا لک " یعنی جوخ کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے بنانے میں سور کی چربی استعمال ہوتی ہے۔اور شامی پنیر کے متعلق مشہور تھا کہ مائع سور (چربی وغیرہ) سے بنایا جاتا ہے رسول کریم کے پاس ان کے پاس سے (شام) پنیر آیا پس حضور ﷺ نے اس سے کھا لیا اور اس کی بابت کچھ نہ پوچھا۔اسی طرح رسالہ اظہار حق" در باب "جو از طعام اہل کتاب" شائع کردہ خان احمد شاہ صاحب قائم مقام اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر ہوشیار پور مطبوعہ اتالیق ہند لاہور صفحہ ۱۶ جس پر مولوی سیلا نذیر حسین دہلوی۔مولوی محمد حسین بٹالوی مولوی عبدالحکیم کلد نوری - مولوی غلام علی قصوری اور دیگر علماء ہند کے دستخط و مواہیر ثبت ہیں۔اس رسالہ میں فتح المعین کی شرح قرة العین کی مذکورہ بالا عبارت نقل کی گئی ہے مراد یہ ہے کہ ان اصحاب کے نزدیک بھی جب تک قطعی طور پر کسی چیز کے حرام ہونے کا کوئی ثبوت نہ ملے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کی تحریر اور دوسرے حوالہ جات کی روشنی میں یہ کہنا غلط ہے کہ یہ ہتک رسول ہے۔اگر یہ ہتک رسول کی بات ہے تو یہ الزام سیدنا حضرت مسیح موعود پر نہیں آتا بلکہ ان بزرگوں پر آئے گا جنہوں نے آپ سے پہلے ایسا تحریر فرمایا۔اعتراض : له خسف القمر المنير وان لي اس شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضور ا کیلئے چاند کو گرہن اور اپنے لئے دو چاندوں کے گرہن کے نشان ظاہر ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اس سے اپنی فضیلت اور آنحضور الله کی تنقیص ہوتی ہے۔- غسا القرآن المشرقان اتنكر جواب : یہ اعتراض حضرت مسیح موعود کی بے انداز تحریروں کے خلاف ہے۔آپ فرماتے ہیں:- میرا مذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ﷺ نے کی ہر گز نہ کرسکتے ان میں وہ دل اور قوت نہ تھی جو ہمارے نبی ﷺ کو ملی تھی اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افتراء کرے گا میں نبیوں کی عزت اور حرمت۔کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں"۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۷۴) پھر آپ حقیقت الوحی میں فرماتے ہیں:- میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی ا جس کا نام محمد ا ہے ہزاروں ہزار درود اور سلام اس پر یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا۔اور اس کی تاثیر قدی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق +