کلید دعوت

by Other Authors

Page 100 of 211

کلید دعوت — Page 100

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسوله الكريم وعلى فيده المسيح الموعود ہندوستان میں جہاد بالسیف کے بارہ میں اس زمانہ کے دوسرے علماء کے نظریات و فتاوی" -1 اہل حدیث کے مشہور عالم و راہنما سید نذیر حسین دہلوی صاحب لکھتے ہیں :- جبکہ شرط جہاد کی اس شہر میں معدوم ہوئی تو جہاد کرنا یہاں سبب ہلاکت و معصیت ہو گا" فتاری نذیریہ جلد ۲ صفحه ۴۷۳٬۴۷۲ مطبوعہ دلی پر تنگ پریس) (فتاوی نذیر یه جلد ۳ صفحه ۲۸۵ اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور) 2 - اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں :- اس شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے۔کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف صفات و شرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو کوئی ایسی شوکت جمعیت حاصل ہے۔جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کر سکیں۔الاقتصاد فی مسائل الجاد صفحه (۷۶) "مسلمان رعایا کو اپنی گورنمنٹ سے (خواہ وہ کسی مذہب یہودی، عیسائی وغیرہ پر ہو اور اس کے امن و عہد میں وہ آزادی کے ساتھ شعار مذہبی ادا کرتی ہو۔لڑنا یا اس سے لڑنے والوں کی جان و مال سے امانت کرنا جائز نہیں ہے۔دبناء علیہ اہل اسلام ہندوستان کیلئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے"۔(اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحه ۲۸۷ اکتوبر ۱۸۸۳م)۔اس مسئلہ اور اس کے دلائل سے صاف ثابت ہے کہ ملک ہندوستان باوجود یکہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دار لا سلام ہے اس پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ حجم کا مہدی سودانی ہو یا خود حضرت سلطان شاہ ایران ہو خواہ امیر خراسان مذہبی لڑائی و چڑھائی کرنا جائز نہیں" اقتصاد فی مسائل الجهاد صفحه ۲۵ طبع اول وکٹوریہ پریس) -3 سید احمد رضاء خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں :- ہندوستان دار السلام ہے۔اسے دار الحرب کہتا ہر گز صحیح نہیں"۔(نصرت الابرار صفحہ ۲۹ مطبوعہ لاہور) - سید محمد اسماعیل صاحب شہید سے ایک شخص نے انگریزوں سے جہاد کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا۔ایسی بے رو ریا اور غیر متعصب سرکار پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں ہے۔اس وقت پنجاب کے سکھوں کا ظلم اس حد تک پہونچ گیا ہے کہ ان پر جہاد کیا جائے“۔