کلید دعوت

by Other Authors

Page 88 of 211

کلید دعوت — Page 88

مضمون حوالہ -4 بیسویں صدی میں سوشل زوال اور پولٹیکل گراوٹ الامان ۲۳ اگست ۱۹۳۰ء انتہائی حالت کو پہنچ گیا ہے اگر بھگوت گیتا میں بھگوان کا وعدہ کیا ہے تو او تار کی سب سے زیادہ ضرورت آج کل ہے۔اے بھگوان کرشن آؤ ، جنم تو دنیا سے ناپاکی دور کرو ، دھرم پھیلا۔ہے۔ایم میور عیسائی سکالر لکھتا ہے۔" ہمیں بچے نجات دہندہ کی ضرورت ہے ہاں ایسے نجات کتاب علم الاخلاق اور تعلیم صفحہ 9 دھندہ کی جو ہمیں ان بیڑیوں سے آزاد کر دے کہ جس میں ہم بچپن سے ہی جکڑے جاتے ہیں۔-6 جناب تصویر ڈرامٹ لدھیانوی ہندو شاعر لکھتا ہے۔خواہش ہے تیری دید کی ہر جان نثار کو پرتاب کرشن نمبر ۲۰- روز ہے تلاش تیری دل بے قرار کو اگست ۱۹۴۷ء صفحه ۴ بس انتظار اب نہ اے موھن دکھائے تیرا ہی واسطہ تجھے دیتا ہوں آئے۔مدت ہوئی دیدہ و دل وا کئے ہوئے اور اک فقط تمہاری تمنا لئے ہوئے۔7 پر یتیم ضیائی نے لکھا کلنگ اوتار آ آ اے امام دو جہاں اخبار ویر بھارت لاہور منتظر ہیں ہم کہ اب ہوتا ہے کہ کب تیرا ظہور کرشن نمبر اگست ۱۹۳۷ء تو مسلمانوں کا مہدی نصاری کا مسیح صفحه - تو شد سکان پستی تو شہنشاہ طیور کہتا یہ اس بندہ نواز دو جہاں سے (اخبار ہندو ۷۔اپریل اے نند کے لخت جگر اے بانسری والے وعدہ پہ تیرے زندہ ہیں اب تک تیرے شیدا کیا دیر ہے اغوش محبت میں بٹھائے۔ورنہ تیری امت کا ٹھکانہ نہ ملے گا انے کا تجھے کوئی بہانہ نہ ملے گا۔