کلید دعوت

by Other Authors

Page 112 of 211

کلید دعوت — Page 112

میں کوئی حرمت والی چیز معلوم ہو۔مثلاً مردار - خنزیر کا گوشت وغیرہ چنانچہ فرماتا ہے۔"طعام الذين اوتواا لكتاب حل لكم" (سورة المائدة : 1 ) یعنی تمہارے لئے ان لوگوں کا ریکا ہوا کھانا جنہیں کتاب دی گئی تھی حلال ہے۔غلام محمد بن عبد الباقي الزرقانی لکھتے ہیں :- عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم لما فتح مكة راي جبنة فقال ما هذا فقالوا طعام يصنع بارض العجم۔فقالو اضعوا فيه السكين وكلوا و روی احمد والبيهقي عنه اتي صلى الله عليه وسلم بجبنة في عزوة تبوك فقال این صنعت هذه قالوا بفارس و نحن نرى ان يجعل فيها ميتة فقال صلى الله عليه وسلم اطعموا وفي رواية ضعوا فيها السكين واذكروا اسم الله تعالى وكلوا - قال الخطابي اباحه صلى الله عليه وسلم على ظاهر الحال ولم يمتنع من اكله ازرقانی شرح المواہب اللہ یہ جلد نمبر ۲ صفحه ۳۳۵) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ ﷺ نے پنیر دیکھ کر فرمایا۔یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا یہ کھانا ہے۔جو عجمی علاقہ میں تیار کیا جاتا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا اس میں چھری رکھو اور اسے کھاؤ۔(یعنی چھری سے کاٹ کر کھاؤ ناقل) احمد اور ابھیقی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں غزوہ تبوک میں پنیر پیش کیا گیا تو آپ نے پوچھا یہ کہاں تیار ہوا ہے صحابہ نے عرض کی فارس میں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ اس میں مردار ڈالا جاتا ہے (یعنی مردار کی چربی۔۔۔ناقل حضور ﷺ نے فرمایا کھاؤ اور ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا اس میں چھری رکھو اور اللہ کا نام لیکر کھاؤ۔ان حدیثوں کی بناء پر خطابی نے کہا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس پنیز کو اس کی ظاہری حالت کی بناء پر مباح (جائز) ٹھہرایا۔اور اس کے کھانے سے ممانعت نہیں فرمائی۔"وكان عليه الصلوة والسلام يراعى صفات الاطعمة و طبائعها» یعنی حضور کھانے کے رنگ وبو اور ظاہری شکل و صورت کا خیال رکھتے تھے۔زرقانی شرح المواهب اللدينه جلد ۴ صفحه ۳۳۵ حضرت مرزا صاحب نے پنیر کے متعلق مشہور " ہونے کا لفظ استعمال فرمایا ہے جبکہ اسی قسم کے الفاظ فتح المعین شرح قرة العین میں زیر عنوان باب الصلوۃ زیر قاعدہ صمہ مطبوعہ مصر مولفہ ۹۸۲ھ میں لکھا ہے۔وجوخ اشتهر عملة بلحم الخنزير و جبن شامى اشتهر عملة بانفخة الخنزير وقد جاءه صلى الله عليه وسلم جبنة من عندهم ولم يسئل عن