کلید دعوت — Page 106
پھر فرمایا : " میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا"۔(روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ صفحه ۳۴۰) پھر فرمایا: "میں اس گورنمنٹ کو کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس سے کوئی صلہ چاہتا ہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کا شکریہ ادا کروں"۔تبلیغ رسالت جلد نمبر ۱۰ صفحه ۱۳۳) کیا غیر مسلم عادل حکومتوں کی تعریف کا جواز موجود ہے؟ رسول پاک ﷺ نے بھی غیر مسلم بادشاہوں کی تعریف کی ہے۔چنانچہ نجاشی کے بارے میں فرمایا :- لو خرجتم الى ارض الحبشة فان بها ملكا لا يظلم عنده احد وهي ارض صدق حتى يجعل الله لكم فرجا مما انتم فيه " اگر تم لوگ سرزمین حبشہ کو چلے جاؤ (تو بہتر ہو گا) کہ وہاں کے بادشاہ کے پاس کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سچائی والی سرزمین ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالی تمہارے لئے ان آفتوں سے جن میں تم ہو کوئی کشائش پیدا کر دے۔(سيرة ابن هشام جلد اول ذكر الهجرة الاولى الى ارض الحبشة) شیعہ عالم علی حائری اپنی کتاب "موحدہ تحریف قرآن" صفحہ ۶۸ میں فرماتے ہیں:- پیغمبر اسلام علیہ والہ السلام نے نوشیرواں عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر بدح اور فخر کے رنگ میں بیان فرمایا ہے"۔موقعه تحریف قرآن صفحه ۲۸ انگریزوں کے بارے میں علامہ اقبال کے خیالات ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر آپ نے ایک مرضیہ لکھا اس میں فرماتے ہیں۔۔میت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کیلئے اقبال از کے خاک سر رہ گزار ہو صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا دیتے ہیں نام ماہ محرم کا ہم تجھے ! کہتے ہیں آج عید ہوئی ہے ہوا کرے اس عید سے تو موت ہی آئے خدا کرے باقیات اقبال ۷۳ ۷۶ مرتبہ سید عبد الواحد معینی ایم۔اے آکسن ، آئینہ ادب ' چوک مینار انار کلی لاہور) علامہ اقبال نے تعریف کر کے یہاں تک بس نہیں کہ بلکہ انگریزوں کو سایہ خدا کہا ہے۔لکھتے؟ اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا اک غمگسار تیرے مکینوں کی تھی، گئی ہتا ہے جس سے عرش یہ رونا اس کا ہے زینت تھی جس سے تجھ کو جنازہ اسی کا ہے۔