کلید دعوت — Page 105
ہے انگریز حکومت کے قیام سے تم ہندوستان کے مسلمانوں خصوصا پنجاب کے مسلمانوں کی حالت زار اس درجہ تک خراب ہو چکی تھی کہ ان کا کوئی بھی حق باقی نہیں رہا تھا اور سکھوں کی حکومت نے ایسے ایسے مظالم توڑے تھے کہ اس کی کوئی نظیر دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔اس جلتے اور دیکھتے ہوئے شور سے انگریزی حکومت نے آکر ہمیں نکالا۔اور ہمارے جملہ حقوق بحال کئے۔اسی بناء پر حضرت مرزا صاحب نے انگریز حکومت کے عدل و انصاف کی تعریف فرمائی اور انسانی شرافت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ احسان کو احسان کے ساتھ یاد کیا جائے۔مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں (جو سکھوں کے دور میں تھی) تلسی رام صاحب اپنی کتاب "شیر پنجاب مطبوعہ ۱۸۷۲ء میں لکھتے ہیں۔ابتداء میں سکھوں کا طریق غارت گرمی اور لوٹ مار کا تھا۔جو ہاتھ میں آتا تھا لوٹ کر اپنی اپنی جماعت میں تقسیم کر لیا کرتے تھے۔مسلمانوں سے سکھوں کو بڑی دشمنی تھی۔اذان یعنی بانگ کی آواز بلند نہیں ہونے دیتے تھے۔مسجدوں کو اپنے تحت میں لیکر ان میں گرنتھ پڑھنا شروع کر دیتے اور اس کا نام موت کڑا رکھتے تھے۔اور شراب خور ہوتے۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جہاں وہ پہونچتے تھے جو کوئی برتن مٹی استعمالی کسی مذہب والے کا پڑا ہو ان کو ہاتھ آجاتا۔پانچ چھتر مار کر اس پر کھانا پکا لیتے تھے۔یعنی پانچ جوتے اس پر مارنا اس کو پاک ہونا سمجھتے تھے"۔(شیر پنجاب مطبوعه ۱۸۷۲ء) ای طرح "سوانح احمدی" (مولفہ محمد جعفر تھانیسری میں حضرت سید احمد صاحب بریلوی کا ایک بیان شائع شدہ ہے جس میں سکھوں کے دور کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:- ہم اپنے انشاء راہ ملک پنجاب میں ایک کنویں پر پانی پینے کو گئے تھے۔ہم نے دیکھا کہ چند سکھنیاں (سکھوں کی عورتیں) اس کنویں پر پانی بھر رہی ہیں ہم لوگ دیسی زبان نہیں جانتے تھے ہم نے اپنے مونہوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو بتلایا کہ ہم پیا سے ہیں۔ہم کو پانی پلاؤ۔تب ان عورتوں نے ادھر ادھر دیکھ کر پشتو زبان میں ہم سے کہا کہ ہم مسلمان افغان زادیاں فلانے ملک اور بستی کی رہنے والی ہیں یہ سکھ لوگ ہم کو زبر دستی اٹھا لائے"۔" موانع احمدی صفحه (۴۲۴) تعریف کی وجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :- پس سنوا اے نادانو میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کیلئے ہم پر تلوار میں چلاتی ہے۔قرآن شریف کی رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے۔کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔دکشتی نوح حاشیہ صفحہ ۱۳۷ ۱۵- دسمبر ۱۹۵۲ء)