کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 302

کلام محمود — Page 53

۵۳ ۲۸ آؤ محمود ذرا حال پریشاں کر دیں اور اس پردے میں دشمن کو پشیماں کر دیں خنجر ناز پہ ہم جان کو شہرباں کر دیں اور لوگوں کے لیے راستہ آساں کر دیں کھینچ کر پردہ کرخ یار کو عریاں کر دیں وہ نہیں کرتے ہیں ہم ان کو پریشاں کر دیں ڈہ کیں ہم کہ گداگر کو سلیماں کر دیں وہ کریں کام کہ شیطاں کو مسلماں کر دیں پہلے ان آرزوؤں کا کوئی ساماں کر دیں دل میں پھر اس شبہ خوباں کو مہماں کر دیں ایک ہی وقت میں چھپتے نہیں سورج اور پان یا تو رخسار کو یا ابرو کو عریاں کردیں آج بے طرح چڑھی آتی ہے لعل لب پر ان کو کہدو کہ وہ زلفوں کو پریشاں کر دیں آدمی ہو کے تڑپتا ہوں چکوروں کی طرح کبھی بے پردہ اگر وہ رخ تا بان کر دیں اک دفعہ دیکھ چکے موسی تو پردہ کیسا ان سے کند و کہ وہ اب چہرہ کو عریاں کریں دل میں آتا ہے کہ دل پیج دیں دلدار کے ہے اور پھر جان کو ہم ہدیۂ جاناں کر دیں وہ کریں دم کہ مسیحا کو بھی حیرت ہو جائے شیر قالیس کو بھی ہم شیر نیستاں کر دیں اخبار بد ر جلد ۸-۲۹ را پریل شنشانه