کلام محمود — Page 273
۲۳ ١٩٩ گو بر گنہ میں بے بس ہو کر پینم غوطے کھاتے جاؤ دل مت چھوڑو پیارو اپنا سر نہروں میں اُٹھاتے جاؤ جس ذات سے پالا پڑتا ہے وہ دل کو دیکھنے والی ہے مایوس نہ ہو تم جتنا ڈوبو اتنی امید بڑھاتے جاؤ ۲۰۰ ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی راہت لا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو مٹ جاؤں میں تو اس کی پروا نہیں ہے کچھ بھی میری فنا سے حاصل گردین کو بقا ہو سینہ میں جوش غیرت اور آنکھ میں حیا ہو کب پر ہو ذکر تیرا دل میں تیری وفا ہو شیطان کی حکومت مٹ جائے اس جہاں سے حاکم تمام دنیا پہ میرا مصطفے ہو محمود عمر میری کٹ جائے کاش یونسی ہو رُوح میری سجدہ میں سامنے خُدا ہو نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا مجمت اپنی مرے دل میں ڈال دے پیارے یہ گھر تو تُو نے بنایا تھا اپنے رہنے کو بتوں کو کعبہ دل سے نکال دے پیارے اچھل چکا ہے بہت نام لات دختر بی کا اب اپنا نام جہاں میں اچھال نے پیارے حیات بخش وُہ جس پر فنا نہ آئے کبھی نہ ہو سکے جو تبہ ایسا مال دے پیارے بجھا دے آگ مرے دل کی آپ رحمہ سے مصائب اور مکارہ کو ٹال دے پیارے اخبار الفضل جلد ۲۰ - ۲ جنوری ۱۳۳ه اله رساله فرقان - ماه اپریل له اخبار الفضل جلد ۲۲ - ۱۷ رمئی ۱۹۳۳ء