کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 302

کلام محمود — Page 245

۲۴۵ 169 ہے تاروں کی دُنیا بہت دُور ہم سے ہم ان سے ہیں اور وہ میں مسجود ہم سے خدا جانے ان کو ہے آزادی حاصل کہ ہمیں وہ بھی معذور مجبور ہم سے زمانہ کو حاصل ہو نور نبوت جو سیکھے قوانین و دستور ہم سے خدا جانے دونوں میں کیا رس بھرا ہے ہم ان سے ہیں اور وہ ہیں مخمور ہم سے ہم ان سے نگاہیں لڑائیں گے پہیم دہ باتیں کریں گے سر طور ہم سے ادھر ہم بعد میں اُدھر دل بھید ہے ہم اُس سے ہیں اور وہ ہے مجبور ہم سے رقیبوں سے بھی چھیڑ جاری رہے گی تعلق رہے گا بدستور ہم سے دلِ دوستاں کو نہ توڑیں گے ہرگز نہ ٹوٹے گا ہرگز یہ بلور ہم سے دھرا ہم پہ بارِ شریعیت تو پھر کیوں فرشتوں پر ظاہر ہو مستور ہم سے مبارک ہو یہ ڈارون کو ہی رشتہ قرابت نہیں رکھتے لنگور ہم سے اخبار الفضل جلد ۸ - ۲۱ اکتوبر سه لاہور - پاکستان ( ناصر آباد سندھ)