کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 302

کلام محمود — Page 170

1+6 رغم دل جو ہو چکا مت لذتوں سے منڈیل پھر ہرا ہونے کو ہے وہ پھر ہرا ہونے کو ہے پھر میرے سر میں لگے اُٹھنے خیالات بجنوں فتنہ محشر میرے دل میں بپا ہونے کو ہے پھر مری شامت کہیں لے جا رہی ہے کھینچ کر کیا کوئی پھر مائل جور و جا ہونے کو ہے پھر کبھی کی تیغ ابرد اُٹھ رہی ہے بار بار پھر میرا گھر مورد کرب و بلا ہونے کو ہے پھر کہا جاتا ہے آنکھوں سے مری اک سیل اشک پھر مرے سینہ میں اک طوفان بپا ہونے کو ہے پھر کچھٹا جاتا ہے ہاتھوں سے میرے دامان صبر ناله آه و فعال کا باب کا ہونے کو ہے عمر گذرے گی میری کیا یونسی اُن کی یاد میں کیا نہ رکھیں گے قدم وہ اس دلِ ناشاد میں ۱۹۴۲ اخبار الفضل جلد ۳۰ یکم جنوری ساده