کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 302

کلام محمود — Page 163

یادہ عرفاں پلائے ہاں پلا دے آج تو چہرہ زیبا دکھا دے ہاں دکھائے آج تو خواب غفلت میں پڑا سویا کروں گا کب تک اور محشر جگا دے ہاں جگا دے آج تو جس کے پڑھ لینے سے کھل جاتا ہے۔از کائنات وہ بہتی مجھ کو پڑ ھمارے ہاں پڑھائے آج تو مجھ کو سینہ سے لگا لے ہاں لگا لے پھر مجھے حسرتیں دل کی مارے ہاں منائے آج تو ناامیدی اور مایوسی کے بادل پھاڑ دے حوصلہ میرا بڑھا دے ہاں بڑھا ہے آج تو کب تلک رستا رہے گا جان من ناسور دل زخم پر مرہم لگا دے ہاں لگائے آج تو یا میرے پہلو میں آکر بیٹھ جا پھر بیٹھ جا یا میری خواہش مٹادے ہاں مارے آج تو جس سے مل جائیں خیالات من و مانی تمام آگ دہ دل میں لگائے ہاں لگائے آج تو دامن دل پھیلتا جاتا ہے بے حد و حساب دیتیاں اس کی اُڑائے ہاں اُڑا نے آج تو جس کسب چھوٹے بڑے شاداب ہوں میرا ہوں دل سے وہ چشمہ بہارے ہاں بہارے آج تو میرے تیرے درمیاں حائل ہوا ہے اک عدد خاک میں اس کو ملائے ہاں ملائے آج تو کب تلک پہنا کروں اور اق جنت کا لباس چادر تقوی اوڑھارے ہاں اوڑھائے آج تُو پھر مری خوش قسمتی سے جمع ہیں ابر و بہار جاسم اک بھر کر پلائے ہاں پلائے آج تو ساکنان جنت فردوس بھی ہو جائیں مست دل میں وہ خوشبو بسائے ہاں بسائے آج تو ارتباط عاشق و معشوق کے سامان کر پھر مری بگردی بنادے ہاں بنا دے آج تو مطرب عشق و محبت گوش بر آواز ہوں نغمہ شیریں سُنا دے ہاں سُنا ہے آج تو 140 اخبار الفضل جلد ۲۸-۴ رجبور می ۱۹۳ه