کلام محمود — Page 67
۳۹ مین حصر رها جزادی امته الحقيقة لمها الله العا خدا سے چاہیے ہے کو لگانی کہ سب فانی ہیں پر وہ غیر فانی وہی ہے راحت و آرام دل کا اُسی سے رُوح کو ہے شادمانی وہی ہے چارۀ آلام ظاهر وہی تکیں دو درد نهانی رسپر بنتا ہے کہ ہر نا تواں کی وہی کرتا ہے اس کی پاسبانی بچاتا ہے ہر اک آفت سے ان کو ملاتا ہے بلائے ناگہانی جسے اس پاک سے رشتہ نہیں ہے زمینی ہے ، نہیں وہ آسمانی اُسی کو پا کے سب کچھ ہم نے پایا کھلا ہے ہم پہ یہ راز نهانی خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَدْنَى الْأَمَانِي ہمارے گھر میں اس نے بھر دیا نور ہر اک ظلمت کو ہم سے کر دیا دور ملایا خاک میں سب دشمنوں کو کیا ہر مرحلہ میں ہم کو منصور حقیقت کھول دی اُن پر ہماری مگر تاریکی دل سے ہیں مجبور ہماری فتح و نصرت دیکھ کر وہ غم و رنج و مصیبت سے ہوئے پور اخبار الحكم جلده - ۱۲ ؍ جولائی سائله