کلام محمود — Page 37
پس اس کی شان میں جو کچھ ہو کہتے ہمارے دل جنگز کو چھنید تا ہے مزہ دو بار پہلے چکھ چکے ہو مگر پھر بھی وہی طرز ادا ہے خُدا کا قہر اب تم پر پڑے گا کہ ہونا تھا جو کچھ اب ہو چکا ہے پکھائے گی تمھیں غیرت خدا کی جو کچھ اس بد زبانی کا مزا ہے ابھی طائون نے چھوڑا نہیں ملک نئی اور آنے والی اک وبا ہے شرارت اور بدی سے باز آؤ دلوں میں کچھ بھی گر خوف خدا ہے بزرگوں کو ادب سے یاد کرنا یہی اکسیر ہے اور کیمیا ہے