کلام محمود — Page 38
19 باب رحمت خود بخود پھر تم یہ وا ہو جائے گا جب تمھارات اور مطلق خُدا ہو جائے گا دشمن جانی جو ہو گا آشنا ہو جائے گا یوم بھی ہو گا اگر گھر میں نہا ہو جائے گا آدمی تقوی سے آخر کیمیا ہو جائے گا جن میں دل سے چھوٹے گا وہ طلا ہو جائے گا جو کہ شرع رُوئے دلبر پر فدا ہو جائے گا خاک بھی ہوگا تو پھر خاک شفا ہو جائے گا جو کوئی اس یار کے در کا گدا ہو جائے گا ملک روحانی کا وہ ترانہ وا ہو جائے گا جس کو تم کہتے ہو یار دیرین ہو جائے گا ایک دن سارے جہاں کا پیشوا ہو جائے گا کفر مٹ جائے گا زور اسلام کا ہو جائے گا ایک دن حاصل ہمارا مدعا ہو جائے گا مدتی دوران کا جو خاک پا ہو جائے گا مہر عالمتاب سے روشن سوا ہو جائے گا پا جو کوئی تقویٰ کرے گا پیشوا ہو جائے گا قبلہ رخ ہوتے ہوئے قبلہ نما ہو جائے گا جس کا مسلک زُہد و ذکر و اتقا ہو جائے گا پنجہ شیطاں سے وہ بالکل رہا ہو جائے گا دیکھ لینا ایک ان خواہش پر آئے گی میری میرا ہر ذرہ محمد پر برا ہو جائے گا پا پر جو ھمن کے چلے گا ایک دن پیروی سے اس کی محبوب خُدا ہو جائے گا دیر کرتے ہیں جو نیکی میں ہے کیا ان کا خیال موت کی سمت میں بھی کچھ انتوا ہو جائے گا دشمن اسلام جب دیکھیں گے اک تری نشاں جان نکل جائے گی ان کی دم فنا ہو جائے گا اخبار بد ر جلد ۲۵۰۰ جون شاه