کلام محمود — Page 257
۲۵۰ مجھ سے کھویا ہوا ایمان مسلمان پالیس ہوں تو سفلی پہ مجھے آپ ثریا کر دیں لوگ بتیاب ہیں بیحد کہ نمونہ دیکھیں سالک رہ کے لیے مجھ کو نمونہ کر دیں مقصد خلق بر آئے گا یہی تو ہو گا اندھی دنیا کو اگر فضل سے بنا کر دیں فلمیں آپ کو سھتی نہیں میرے پیارے پرے سب چاک کریں چہرہ کو نگا کر دیں اپنے ہاتھوں سے ہوتی ہے میری صحت برباد میری بیماری کا اب آپ داوی کردیں بار آور ہو جو ایسا کہ جہاں بھر کھائے دل میں میرے وہ شجر خیر کا پیدا کر دیں یں تہی دست ہوں رکھتا نہیں کچھ راس عمل جو نہیں پاکس ہرے آپ مہیا کر دیں