کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 302

کلام محمود — Page 251

۲۵۱ فکر خود سے نکر دنیا کے لیے آزاد ہیں شاد کرتے ہیں زمانہ بھر کو خود ناشاد ہیں دنیا والوں کی نظر میں پھر بھی مہرے ہیں حقیر ہیں گنہ لازم مگر سب نیکیاں برباد ہیں تیرے بندے اے خدانی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں بند کر کے آنکھ دنیا کی طرف سے آج وہ رکھ رہے ہیں تیرے دیس کی سب جہاں میں تاج وہ تیری خاطر سہہ رہے ہیں ہر طرح کی ذلتیں پر ادا کرتے نہیں شیطاں کو ہرگز باج وہ تیرے بندے اے خدا ہی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں ساری دُنیا سے ہے بڑھ کر حوصلہ ان کا بلند پھینکتے ہیں عرش کے کنگوروں پر اپنی کمند کیوں نہ ہو وہ صاحب معراج کے شاگردہیں آسمان پر اڑ رہا ہے اس لیے ان کا سمند تیرے نے اسے ندا پر سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو بھی تھی بر او نیا ڈہی تیرے ہوئے شیر کی مانند اٹھے ہیں وہ اب بھرے ہوئے نام تیرا کر رہے ہیں ساری دنیا میں بلند جان تھیلی پر دھرے سر پر کفن باندھے ہوئے تیرے بندے اسے ندا بیچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں