کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 302

کلام محمود — Page 250

۲۵۰ دنیا والوں نے انہیں بے گھر کیا بے در کیا پھر بھی ان کے قلب حب خلق سے معمور ہیں تیرے بندے اے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں ڈھانتے رہتے ہیں ہردم دوسروں کے عیب کو ہمیں چھپاتے رہتے وہ دنیا جہاں کے عیب کو ان کا شیوہ نیک ملتی نیک خواہی ہے سدا آنے دیتے ہی نہیں دل میں کبھی بھی زیب کو تیرے بندے اسے خدا سے ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں روز و شب قرآن میں فکر د د برشن اُن پہ دروازہ کھلا ہے دین کے اسرار کا بعد میں اُن میں غیر بیت کوئی نظر آتی نہیں ہیں اگر وہ مال تیرا تو بھی ان کا ہے صلہ تیرے بندے اسے خُدا یہ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں اک طرف تیری محبت اک طرف دُنیا کا درد دل پھٹا جاتا ہے سینے میں ہے چہرہ زرد زرد ہیں لگے رہتے دُعاؤں میں وہ دن بھی رات بھی ہیں زمین و آسماں میں پھر رہے وہ کرہ نورد تیرے بندے اسے خُدا ہی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو ہماری لگی ہے وہ ہیں غافل سو ر ہے پر یہ ان کی فکر میں میں سخت بے کل ہو ہے ایک بیماری سے گھائل ایک فکروں کا شکار دیکھئے دنیا میں باقی یہ رہے یا وہ رہے تیرے بندے اے خدا سے ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں بادۂ عرفاں سے تیری ان کے سر منور ہیں جذبہ الفت سے تیرے ان کے دل معمور ہیں ان کے سینوں میں اُٹھا کرتے ہیں طوفان استان دہ زمانہ بھر میں دیوانے ترے شہور ہیں تیرے بندے اسے خُدا سے ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں طاقت وقوت کے مالک ان کا منہ کرتے ہیں بند دین کی گنتی کے وارث پھینکتے ہیں ان پر گند وہ ہر اک میاد کے تیروں کا بنتے ہیں ہدف جس کا بس چلتا ہے پہنچاتا ہے وہ ان کو گزند تیرے بندے اے خُدا ہی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں