کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 302

کلام محمود — Page 180

١١٩ فیضان محمدی سالم علی رستم كُمْ نَورَ وَجْهَ النَّبِيِّ صَحَابَهُ كَالفُلْكِ ضَاءَ سَطْحُهَا بِنُجُومِهَا آپ کے صحابہ نے نبی کریم کا چرہ کس قدر منور کر دیا۔جیسے سطح سمادی اپنے تاروں سے روشن ہو جاتی۔كَم تَنْفَعُ الثَّقَلَيْنِ تَعْلِيْمَاتُهُ تَدْخُصَ دِينُ مُحَمَّدٍ بِعُمُؤْمِهَا آپ کے علوم جن و انس کو کسقدر نفع دے رہے ہیں۔یہ علوم سارے کے سارے دین محمدی سے ہی خاص ہیں ظَهَرَتْ هِدَايَةُ رَبِّنَ بِقَدُومِهِ ذَالَتْ ظَلَامُ الدَّهُرِ عِنْدَ قُدُومِها ہمارے رب کی ہدایت آپ کے آنے سے ظاہر ہوئی۔ہدایت کے آنے سے زمانہ بھر کا اندھیرا دُور ہو گیا جاءَ بِتِرْيَاقٍ مُّزِيلٍ سِقَامَنَا غَابَتْ غَوَايَتُنَا بِكُلِّ سُمُؤْمِهَا ایسا تریاق لائے جو ہماری بیماریاں دور کرنے والا تھا۔ہماری گھرا ہی اپنے تمام زہروں سمیت چھپ گئی نَزَلَتْ مَلَيْكَةُ السَّمَاءِ لِنَصْرِه قَدْ فَاقَتِ الْأَرْضُ سَى يَظُلُومها آپ کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے اُتر ہے۔اپنی چمک دمک سے زمین آسمان پر فوقیت لے گا رَدَّ عَلَى الْأَرْضِ كَنُونَا مِحَابُهُ فَتِنَ الْمَوْدُ بِبَقْلِهَا وَ بِفُوْمِنَا آپ کے صحابہ نے زمین کو اس کے خزانے واپس کر دیتے مگر یہود اپنی ترکاریوں اور لہسن کے فتنہ میں پڑ گئے رُفِعَتْ بُيُوتُ المُؤْمِنِينَ رَفَاعَةُ حُسِفَ الْبِلادُ لِفُرُ سِهَا وَ بِرُومِهَا مرتبہ میں مومنوں کے گھر بند ہو گئے۔فارس اور روم کے شہروں کے شہر ذلیل ہو گئے دَخَلَتْ صُفُوفَ عِدًى بِغَيْرِ رَوَيَّةٍ فَازَتْ جَمَاعَةً صَحْبِهِ بِتُعُومِهَا دشمن کی صفوں میں بے دھڑک جاگئے۔آپ کے صحابہ کی جماعت با وجود کمزور ہونیکے کامیاب ہوگئی منح الْعُلُومُ صَغِيْرَهَا وَكَبِيرَهَا صَبَّتْ سَمَاءَ العِلماء غير مها چھوٹے بڑے سب ہی کو علوم بختے۔علم کے آسمان نے علم کے بادلوں کا پانی بہا دیا فَاضَتْ ضَفُونَ الكَوثَر شَوْقَالَهُ وَعَدتُ إِلَيْهِ الْحَينَةُ بكُرُومِهَا کوثر کے پانی بہہ پڑے ان کے اشتیاق کی وجہ سے۔جنت دوڑی آپ کی طرف اپنے انگوروں کو لے کر اخبار الفضل جلد ۳۳ - ۴ ر جنوری ۱۹۳۵ کولے