کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 302

کلام محمود — Page 181

EAL ۱۲۰ تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے آباد ہوئے جن سے دنیا کے ہیں ویرانے کب پیٹ کے دھندواں مسلم کو بلا فرصت ہے دین کی کیا حالت یہ اس کی بلا جانے جو جاننے کی باتیں تھیں اُن کو بھلایا ہے جب پوچھیں سب کیا ہے کہتے ہیں خُدا جانے رستی سے خالی ہے دل عشق سے عاری ہے بیکار گئے اُن کے سب سامرہ پیمانے خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پڑانے فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے ہے ساعتِ سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کردوں انجام خدا جانے اخبار الفضل جلد ۳۴۲ - ۱۲ جنوری ۱۹۳