کلام محمود — Page 168
104 A ہری رات دن بس میں اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے اُن نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو تاروں کو سورج کو اور آسماں کو وہ ہے ایک اس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر نہ ہے باپ اُس کا نہ ہے کوئی بیٹا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اُس کو کچھ ساتھیوں کی ہر اک پیز پر اس کو قدرت ہے حاصل ہر اک کام کی اُس کو طاقت ہے حاصل پہاڑوں کو اُس نے ہی اونچا کیا ہے سمندر کو اُس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اُسی نے تو قدرت سے پیدا کیے ہیں سمندر کی پھلی ہوا کے پرندے گھریلو چرندے بنوں کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہر اک اپنے مطلب کی نئے کھانا ہے ہر اک کتے کو روزی وہ دیتا ہے ہردم خزانے کبھی اس کے ہوتے نہیں کم دہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے وہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے کوئی نشے نظر سے نہیں اس کے معنی بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی اخبار الفضل جلد ۲۹ - یکم جنوری ساله