کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 302

کلام محمود — Page 4

یاد ایام کہ تھے بند پر اندھیر کے سال ہر گھی کوچہ پہ ہر شہر پہ آیا تھا ذبال روز روشن میں لٹا کرتے تھے لوگوں کے مال دل میں اللہ کا تھا خوف نہ حاکم کا خیال ہر طرف شور و فعال کی ہی صدا آتی تھی سخت سے سخت دلوں کو بھی جو تڑپاتی تھی رحم کرنا تو کیا ظلم ہوا تھا پیشہ لوگ بھوٹے تھے کہ ہے نام مروت کس کا چارسو ملک میں تھا ہو رہا شور و غوغا بلکہ سچ ہے کہ نمونہ وہ قیامت کا تھا کبھی آتا نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام دل سے تھا محو ہوا مہر و محبت کا ہم طنت میں بھی تزلزل کے نمایاں تھے نشاں صاف ظاہر تھا کہ ہے چند دنوں کی سماں قاضی و نفتی بھی کھو بیٹھے تھے اپنا ایماں رحم و انصاف کئے ہ نام سے بھی تھے انجاں ایسے لوگوں سے تھا انصاف کا پا نا معلوم خیال انصاف کا تھا جنکے دلوں سے معدم افسر فوج لڑائی کے فنوں میں چوپٹ منہ سے جو بات نکل جائے پھر اس پرتھی ہٹ رہتی آپس میں بھی ہر وقت تھی انکی کھٹ پٹ تھے وہ بتلاتے ہر اک دوسرے کو ڈانٹ پٹ پر کوئی موقع لڑائی کا جو آ جاتا تھا ہر کوئی صاف وہاں آنکھیں چرا جاتا تھا اخبار بدر جلد ۵ - ۱۴ جون نشانه /