کلام محمود — Page 151
ندیاں ہر طرف کو بہتی تھیں قلب سانی کا حال کہتی تھیں آبشاروں کی شکل میں گر کر صدمہ افتراق سستی تھیں زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر مین سے میں اشکبار آیا دیو داروں کی ہر طرف متھی قطار یاد کرتا تھا دیکھ کر تد یار لوگ دل کر رہے تھے ان پر نثار جان سے ہو رہا تھا میں بیزار لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا ابر آتے تھے اور جاتے تھے دل کو ہر اک کے خوب بھاتے تھے بجلیوں کی چمک میں مجھ کو نظر جلوے اس کی ہنسی کے آتے تھے زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر مین سے میں استکبار آیا شاخ گل پر هزار بیٹی تھی کا نچتی ہے تدار بیٹھی تھی نغمہ سُن سُن کے اسکے سب خوش تھے وہ مگر دل فگار بیٹھی تھی لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا کیسی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں ناز و رعنائی سے پھلتی تھیں اُن کی رفتار کی دلا کر یاد دل میرا چٹکیوں میں کلتی تھیں زنیم دل ہو گئے ہرے میرے۔ہر میمن سے میں اشکبار آیا