کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 302

کلام محمود — Page 152

۱۵۲ تھے طرب سے درخت بھی رقصان گویا قسمت پر اپنی تھے نازاں پتے پتے کے پاس جا کر میں سونگھتا تھا بُوئے مہ کنعاں لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک بین مت کہ سوگوار آیا جلوے اس کے نمایاں ہرلئے ہیں سر اُسی کی تھی پیدا ہوئے ہیں رنگ اُسی کا چھلک رہا تھا آہ کف ساقی میں ساغر ئے میں زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر چمن سے میں استکبار آیا اس کے نزدیک ہو کے دُور بھی تھا دل اُمیدوار چور بھی تھا نارِ فُرقت میں جل رہا تھا ئیں کو پس پردہ اک ظہور بھی تھا لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں بھتا کہ سوگوار آیا دیکھتے کب وہ منہ دکھاتا ہے پردہ چہرہ سے کب اُٹھاتا ہے کب مرے غم کو دور کرتا ہے پاس اپنے مجھے بلاتا ہے ہنس کے کہتا ہے دیکھ کر مجھ کو دیکھو وہ میرا دل نگار آیا میں یونسی اس کو آزماتا تھا پاک کرنے کو دل جلاتا تھا عشق کی آگ تیز کرنے کو منہ چھپاتا کبھی دکھاتا تھا میری خاطر اگر یہ تھا بے چین کب مجھے اس کے بن مقدار آیا