کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 302

کلام محمود — Page 130

۱۳۰ 69 مرے ہمراز بیشک ال محبت کا ہے پیمانہ ہے اس کا حال برندانہ تو اس کی چال مستانہ کے جاں بجٹ لیتی ہے جہاں ہے یہ وہ میخانہ مگر وہ کیا کرے میں کا کردل ہو جائے ویرانہ نظر آئیں تمناؤں کی چاروں ہمت میں قبریں ہرے ہمراز کہتے ہیں کہ اک نئے نور ہوتی ہے جب آتی ہے تو تاریکی معا کا فور ہوتی ہے علاج رنج و غم ہائے دل رنجور ہوتی ہے طبیعت کتنی ہی افسردہ ہو مسرور ہوتی ہے گر ہم کیا کریں جن کے گردن بھی ہو گئے راتیں ہرے ہمراہ آنکھیں بھی نقل کی ایک نعمت میں ہزاروں دوستیں قربان ہوں جس پر وہ دولت ہیں بنائے جسم میں پہنچ ہے کہ باب علم وحکمت میں مثال خضر ہمراہ طلب گار زیارت ہیں مگر وہ منہ نہ دکھلائیں توپھر ہم کیا کریں آنکھیں دہ خوش قسمت ہیں جو گر پڑ کے اس مجلس میں اپنے بھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جاہیے فرم میں طرح بن آیا مطالب اُن سے منوائے میرے ہمراز اپر وہ پرشکستہ کیا کریں جن کے ہوا میں اُڑگئے نالے ، گئیں بے کار فریادیں اخبار الفضل جلد ۱۴ - ۲۸ ستمبر ۱۱۲