کلام محمود — Page 115
ئیں تو کمزور تھا اس واسطے آیا نہ گیا کس طرح مانوں کہ تم سے بھی بلایا نہ گیا نفس کو بھولنا چاہا پر سبلایا نہ گیا جان جاتی رہی پر اپنے پرایا نہ گیا۔عشق اک راز ہے اور راز بھی ایک پائے کا مجھ سے یہ راز صدافسوس چھپایا نہ گیا دیکھ کر ارض و سما بار گران تشریح رہ گئے ششدر و حیران اُٹھایا نہ گیا ہم بھی کمزور تھے طاقت نہ تھی ہم میں ہی کچھ قول آت کا مگر ہم سے ہٹایا نہ گیا کس طرح تجھ کو گناہوں پر ہوئی کیوں جرات اپنے ہاتھوں سے بھی زہر تو کھایا نہ گیا کفر نے لاکھ تدابیر کیں لیکن پھر بھی صفحۂ دہر سے اسلام مٹایا نہ گیا لا کس طرح کہ تدبیر ہی صائب نہ ہوئی دل میں ڈھونڈا نہ گیا غیر میں پایا نہ گیا اس کے جلوے کی تباؤں تمہیں کیا کیفیت مجھ سے دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا جاہ دعزت تو گئے ، کہر نہ چھوٹا مسلم ! بھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو پر سایا نہ گیا پین سے بیٹھتے تو بیٹھتے کس طرح کرانم دور بیٹا نہ گیا پاس بٹھایا نہ گیا جان محمود ترا حسن ہے اک حُسن کی کان لاکھ چاہا پہ ترا نقش اُڑایا نہ گیا اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۷ار اگست ۱۱۲۳ه *