کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 302

کلام محمود — Page 76

64 وہ تو کچھ رکھتی بھی تھی پر میں تو خالی ہاتھ ہوں بے عمل ہوتے ہوئے ہے تجھ سے دست یار کیوں غلامی میں مگر ہے عشق کا دعوی تھے پیا کروں میں ہوں مگر ہے خواریش قربے ہور پر وہ عالی بارگہ ہے منبع فضل و کرم کیا تعجب ہے جو نچھ کو بھی بنا دے کامگار بات کیا ہے گروہ میری آرزو پوری کرے دے مری جان کو تسلی دے میرے قول کو قرار ہو کے بے پردہ وہ میرے سامنے آئے کل میرے دل سے دور کرے مجرد فرقت کا اخبار جس قدر رستہ میں روکیں ہیں بہائے وہ انہیں جس قدر حائل ہیں پڑے ان کو کردے تارتار بے نے اس کے تو جینا بھی ہے بد تر موت سے ہے وہی زندہ جسے اس کا بلے قرب دبوار کور ہیں آنکھیں جنھوں نے مشکل وہ دیکھی نہیں گوش گز ہیں جو نہیں سنتے کبھی گفت اریار آرزو ہے گر فلاح و کامیابی کی تھیں اس شبہ خوباں پہ کر دو بے ٹائل جاں نثار کھول کر قرآن پڑھو اس کے کلام پاک کو دل کے آئینہ پر تم اک کھینچ لو تصویر یار شوق ہو دل میں اگر کوئی تو اس کی دید کا کان میں کوئی صدا آئے نہ جز گفتار یار بزرگ وریشہ میں ہو اس کی محبت جاگزیں ہر کہیں آئے نظر نقشہ وہی منصور وار اپنی مرضی چھوڑ دو تم اس کی مرضی کے لیے جو ارادہ وہ کرے تم بھی کرو وہ اختیار عشق میں اس کے نہ ہو کوئی ملونی جھوٹ کی جو زباں پر ہو وہی اعمال سے ہو آشکار پاک ہو جاؤ کہ وہ شاہ جہاں بھی پاک ہے جو کہ ہو نا پاک دل اس سے نہیں کرتا وہ پیار چھوڑ دور سنج و عداوت ترک کر دو نفض ہیں پیار و الفت کو کرو تم جان و دل سے اختیار چھوڑ دو غیبت کی عادت بھی کہ یہ اک زہر ہے روح انسانی کو ڈس جاتی ہے یہ منند مار بھر کی عادت بھلاؤ انکساری سیکھ لو جہل کی عادت کو چھوڑ دو علم کر لو اخت سیار دونوں ہاتھوں سے پکڑ لو د امن تقومی کو تم ایک ساعت میں کرا دیتا ہے یہ دیدار یار کتے ہیں پیاروں کا جو کچھ ہو وہ آتا ہے پسند اس لیے جو کوئی اُس کا ہو کہ تم اس سے پیار