کلام محمود — Page ix
164 KA 169 ۱۸۰ IMI JAY lar JAD JAY JAA 19۔191 ۱۹۲ ۱۹۴ ۱۹۵ 194 194 19A 144 114 HA 114 ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا دست کوتاہ کو پھر درازی بخش اے حسن کے جاؤد ! مجھے دیوانہ بنادے كَمْ نَورَ وَجْهَ النَّبِيِّ صَحَابُهُ تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے معصیت و گناہ سے دل میرا داغدار تھا ہم نشیں تجھ کو ہے اک پر امن منزل کی تلاش اللہ کے پیاروں کو تم کیسے بُرا سمجھے ۱۳۴ درد نہاں کا حال کسی کو سُنائیں کیا ۱۲۵ يَا رَازِقَ الثَّقَلَيْنِ اَيْنَ جَنَاكَ شاخ طوبی پہ آشیانہ بنا ۱۲۸ بٹھانہ مسند پر پاس اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساتی ۱۳۹ مرادیں لوٹ لیں دیوانگی نے عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی مُردوں کی طرح باہر نکلو اور ناز و ادا کو رہنے دو ۱۳۲ ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے ذکر خدا پر زور دے ظلمت دل مٹائے جا منور کر دیا مجھے دیوانہ کر دیا ہو چکا ہے ختم اب چکتر تبری تقدیر کا } } ۱۳۵