کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 302

کلام محمود — Page 60

جگہ دیتے ہیں جب ہم انکو اپنے سینہ دوں میں ہیں وہ بیٹھنے دیتے نہیں کیوں اپنی محفل میں بڑے چھوٹے بھی کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں تو پھر تشریف کیوں لاتے نہیں وہ کعبہ دل میں کرے گا نصر اللہ اکبر کوئے قاتل میں ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے ہم اس مرغ سبل میں اُسی کے علوہ ہائے مختلف پر کرتے ہیں عاشق یہی گلی میں وہی مل میں وہی سے شمع محفل میں وہی ہے طرز دلداری وہی رنگ ستم گاری بختس کیوں کروں اس کا کہ ہے یہ کون عمل میں بلاتے ہیں مجھے وہ پر ہوئیں اُٹھوں تو کہتے ہیں کدھر جاتا ہے او غافل میں بیٹھا ہوں ترے دل میں ہزاروں دامنوں پر خون کے دستے چمکتے ہیں مرے آنے پہ کیا ہوئی ہوتی ہے کوئے قابل میں میں سجا تھا کہ اسکو دیکھ کر پڑ جائیگی ٹھنڈک غیر کی تھی کہ میٹنگ جاؤں گا جا کر اسکی مفصل میں گلوں پر پڑ گئی کیا اوس دید روئے جاناں سے کوئی دیکھو تو کیا شور برپا ہے عنا دل میں مصیبت راہِ الفت کی کئے گی کس طرح یارب مرے پاؤں تو بالکل رہ گئے ہیں اپنی منزل میں اخبار بدو جلد ۸-۲۹ جولان نشانه A