کلام محمود — Page 61
یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو ہے ساغر سے اُلفت پلا دیا مجھ کو بتاؤں کیا کہ مسیحا نے کیا دیا مجھ کو میں کرم خاکی تھا انساں بنا دیا مجھ کو کسی کی موت نے سب کچھ بھلا دیا مجھ کو اس ایک پوٹ نے ہی سٹپٹا دیا مجھ کو کسی نے ثانی شیطاں بنا دیا مجھ کو کسی نے لے کے فرشتہ بنادیا مجھ کو نہ اس کے منض نے پیچھے ہٹا دیا مجھ کو نہ اُس کے پیلید نے آگے بڑھا دیا مجھ کو یہ دونوں میری حقیقت سے دور میں محمود خُدا نے جو تھا بنانا بنا دیا مجھ کو کبھی جو طالب دید رخ نگار ہوا تو آئینہ میں میرا منہ دیکھا دیا مجھ کو بنائے اہلِ جہاں کا ہوا جو میں شاکی تھپک کے گود میں اپنی سلا دیا مجھ کو جہاں حمد کا گذر ہے نہ دخل بد میں ہے ہے ایسے ملک کا وارث بنا دیا مجھ کو مرے تو دل میں تھا کہ بڑھ کر نثار ہو جاؤں پر اُس کے تیر نگہ انے ڈرا دیا مجھ کو میرا قدم تھا کبھی عرش پر نظر آتنا اٹھی خاک میں کس نے بلا دیا مجھ کو نیم جماعت احمد نہیں سہا جاتا یہ آگ دُہ ہے کہ جس نے جلا دیا مجھ کو +14-4 اخبار در جلد ۸-۱۶ ستمبر شاه